شرعی قوانین تا قیامت ناقابل تحریف و ترمیم

   

کتاب حضور اکرم ﷺ کے جوابات کی رسم اجراء ، فیضان مصطفی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد یکم / جون ( راست ) شرعی قانون میں تاقیامت نہ تو تحریف نہ ہی ترمیم کی جاسکتی ہے ۔ شرعی قوانین کسی اور قانون کے تابغ نہیں ہوتا ۔ شریعت کا تعلق انسان کے ضمیر سے ہے ۔ فقہ میں اجتہاد ممکن ہے ۔ ان خیالات کا اظہار مولانا محمد خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ و صدر فقہ اکیڈیمی نے کیا ۔ وہ 29 مئی کی شام احادیث کے انگریزی مجموعہ حضور اکرم ﷺ کے جوابات کی تقریب رونمائی سے خطاب کر رہے تھے ۔ یہ کتاب دوردرشن کے سابق ایگزیکیٹیو انجینئیر جناب عبدالرحیم نے مرتب کی ہے ۔ پروفیسر فیضان مصطفی وائس چانسلر نلسار یونیورسٹی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی ۔ شہ نشین پر ڈاکٹر راشد نسیم ندوی ، مفتی عمر عابدین اور جناب ساجد موجود تھے ۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اس تجویز سے اتفاق کیا کہ علمائے کرام کو دستور ہند اور ہندوستانی قوانین سے متعلق کامل معلومات ہونی چاہئے ۔ اور اسی طرح ماہرین قانون بالخصوص وکلاء اور ججس کو دینی معلومات بالخصوص شرعی قوانین سے مکمل واقفیت ضروری ہے۔ دونوں ایک دوسرے کا تعاون کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم مسائل اور مقدمہ سے متعلق فیصلے ہوتے ہیں مگر انصاف نہیں ہوتا ۔ ایک ہی ملک کی عدالتوں میں دو فرقوں کیلئے علحدہ علحدہ قوانین ہیں ۔ پروفیسر فیضان مصطفی نے دنیا کے مختلف قوانین پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مذہبی روشنی میں اگر کوئی فعل گناہ ہے تو ضرور نہیں کہ ملک کے قوانین میں یہ گناہ یا جرم ہو ۔ انہوں نے جرم اور گناہ کے فرق کو بھی بتایا ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض مقدمات کی پیروی میں قرآنی آیات اور احادیث کے جو تراجم پیش کئے جاتے ہیں وہ غیر معیاری ہوتے ہیں ۔ جس کا فیصلوں پر اثر پڑتا ہے ۔ اس جانب توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ مولانا راشد نسیم ندوی اور مفتی عمر عابدین نے بھی خطاب کیا ۔ جناب ساجد علی نے کارروائی چلائی ۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے شکریہ ادا کیا ۔