شرمیلا کو قیامگاہ پر محروس رکھنے پر ہائیکورٹ کی برہمی

   

حیدرآباد ۔14 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی کی سربراہ وائی ایس شرمیلا کو قیامگاہ سے نکلنے سے نہ روکا جائے۔ پولیس کی جانب سے شرمیلا کی نقل و حرکت پر پابندی کے خلاف ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی گئی ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پد یاترا کی اجازت کے باوجود پولیس کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ شرمیلا کی جانب سے لنچ موشن پٹیشن داخل کی گئی جس میں کہا گیا ہے کہ ہالئی کورٹ نے پد یاترا کی اجازت دی لیکن پولیس انہیں قیامگاہ سے باہر نکلنے سے روکنے کے لئے بیریکیٹس لگاچکی ہے۔ ہائی کورٹ نے درخواست کی سماعت کے بعد شرمیلا کی قیامگاہ کے روبرو لگائے گئے بیریکیٹس ہٹانے کی پولیس کو ہدایت دی۔ عدالت نے شرمیلا کو قیامگاہ پر محروس رکھنے کی کارروائی پر ناراضگی جتائی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس عوامی حقوق اور آزادی کے خلاف کام کررہی ہے ۔ شرمیلا کے وکیل نے بتایا کہ کارکنوں کو پارٹی آفس پہنچنے سے روکا جارہا ہے ۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پرگتی بھون کے گھیراؤ کی کوشش اور اجازت کے بغیر راج بھون جاتے ہوئے ٹریفک کے مسائل پیدا کئے گئے۔ شرمیلا کی سرگرمیوں سے امن و ضبط کی صورتحال متاثر ہوسکتی ہے۔ ر
عدالت نے کہا کہ شرمیلا اگر قواعد کی خلاف ورزی کریں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جاسکتی ہیں لیکن کوئی ایک وجہ بتا کر انہیں گھر پر محروس نہیں رکھا جاسکتا ۔ ہائیکورٹ نے شرمیلا سے کہا کہ پولیس سے اجازت حاصل کرنے کے بعد بھی پد یاترا کا آغاز کریں۔ عدالت نے لوٹس پانڈ کے روبرو بیریکٹس نکالنے اور گاڑیوں کی آمد ورفت کی اجازت دینے کی ہدایت دی۔ ر