پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے پنگئی پہاڑی علاقے میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے تجربات کی وجہ سے جنوبی کوریا، جاپان اور چین کے لاکھوں افراد کو تابکار مادوں کا خطرہ لاحق ہے۔ پیونگ یانگ نے 2006 سے2017 کے درمیان چھ خفیہ تجربات کیے تھے۔سیول سے سرگرم انسانی حقوق کی ایک تنظیم ٹرانزیشنل جسٹس ورکنگ گروپ نے منگل کے روز ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اور جنوبی کوریا نیز جاپان اور چین کے لاکھوں افراد ایک زیر زمین نیوکلیئر تجربہ گاہ کی وجہ سے پانی میں تابکار مادے پھیل جانے کے سبب خطرے سے دوچار ہو گئے ہیں۔امریکی اور جنوبی کوریائی حکومتوں کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے شمالی ہمگیونگ صوبے کے پہاڑی علاقے پنگئی ری میں سن 2006 سے سن 2017 کے درمیان نیوکلیئر ہتھیاروں کے خفیہ طور پر چھ تجربات کیے۔ٹرانزیشنل جسٹس ورکنگ گروپ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس بات کا خدشہ ہے کہ نیوکلیئر ہتھیاروں کے تجربات کی وجہ سے تابکار مادے آٹھ شہروں اور کئی ملکوں میں پھیل گئے ہوں۔ ان شہروں میں دس لاکھ سے زائد شمالی کوریائی رہتے ہیں اور وہ اپنی روزمرہ کے استعمال اور پینے کیلئے زیر زمین پانی کا استعمال کرتے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا سے اسمگل ہونے والے زرعی اور ماہی گیری کے مصنوعات کی وجہ سے پڑوسی جنوبی کوریا، چین اور جاپان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ٹرانزیشنل جسٹس ورکنگ گروپ کے سربراہ یونگ ہوان لی کا کہنا تھا کہ، “یہ رپورٹ اس بات کو ظاہر کرنے کے لحاظ سے اہم ہے کہ شمالی کوریا کے نیوکلیئر تجربات سے نہ صرف شمالی کوریا کے لوگوں کو بلکہ جنوبی کوریا اور دیگر پڑوسی ملکوں کے لوگوں کی زندگی اور صحت کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔