ٹوکیو: شمالی کوریا نے جمعرات کو ایک بین البراعظمی بیلسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) داغا۔ یہ دنیا کے دوسری طرف اور جاپان کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے ۔ جاپانی حکومت نے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا تھا کہ میزائل نے 1920 کلومیٹر کی بلندی پر پرواز کی،جس کی رینج 760 کلومیٹر تھی۔اس واقعہ نے جاپانی حکومت کو ملک کے شمالی صوبوں میں ہنگامی حالت کا اعلان کرنے پر مجبور کیا اور لوگوں کو پانچ سالوں میں پہلی بار گھروں کے اندر رہنے کو کہا گیا۔ابتدائی طور پر کہا جا رہا تھا کہ یہ میزائل جاپان کے اوپر سے گزرا تھا۔ تاہم وزیر دفاع یاسوکازو ہماڈا کا کہنا تھا کہ ‘یہ جاپانی جزیرہ نما کو عبور نہیں کیا بلکہ بحیرہ جاپان کے اوپر سے غائب ہو گیا۔رپورٹ میں کہا گیا کہ اگر شمالی کوریا کا ارادہ جاپان کو ڈرانا ہے تو اس کا الٹا اثر ہو سکتا ہے ۔پیانگ یانگ کے میزائل تجربات اور تائیوان کو چین کی حالیہ دھمکیوں کا جاپان کی سیاست پر گہرا اثر پڑ رہا ہے ۔جاپان میں ایک عرصے سے پرانے آئین کو ختم کرنے اور ملک کو دوبارہ مسلح کرنے کے لیے کام کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے ۔ اگرچہ زیادہ تر جاپانی شہری اب تک یہ نہیں کہہ رہے ہیں۔ بی بی سی نے کہا کہ تاہم یہ تبدیل ہو رہا ہے اور اب حفاظت کی طرف جانے کی تمام وجہ موجود ہے ۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق فوکو کشیدا کی حکومت دسمبر میں تجویز کرے گی کہ آنے والی دہائی میں ملک کے دفاعی بجٹ کو دوگنا کیا جائے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیار حاصل کیے جائیں۔