نئی دہلی: طلاق کے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے، کرناٹک ہائی کورٹ نے ایک حالیہ فیصلے میں کہا ہے کہ کالی جلد کی رنگت پر تبصرے ظلم کے مترادف ہے۔ شوہر نے فیملی کورٹ کی جانب سے طلاق نہ دینے کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ سب ڈویژن بنچ نے کہا کہ بیوی نے شوہر کی سیاہ رنگت کی وجہ سے مسلسل تذلیل کی اور کالی جلد والے شخص کے طور پر اسے ہراساں کیا۔بنچ نے مشاہدہ کیا کہ اسے چھپانے کیلئے بیوی نے اپنے شوہر پر ناجائز تعلقات کا جھوٹا الزام لگایا۔ہائیکورٹ نے ہندو میرج ایکٹ کی دفعہ 13(i)(a) کے تحت شادی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے شوہر کیلئے طلاق بھی منظور کر لی اور نچلی عدالت کے حکم کو منسوخ کردیا گیا ہے۔ دونوں کی شادی سال 2007 میں ہوئی تھی اور دونوں کی ایک بیٹی بھی ہے۔ شوہر نے سال 2012 میں بنگلور کی فیملی کورٹ میں طلاق کی درخواست دائر کی تھی۔ فیملی کورٹ نے 13 جنوری 2017 کو شوہر کی درخواست کو خارج کردیا تھا۔درخواست گزار نے دعویٰ کیا کہ شادی کے بعد اس کی بیوی نے ہمیشہ اسے کالا کہہ کر طعنہ دیا۔