شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے

   

مندر چندہ چوری … سب گول مال ہے
آپریشن سندور کے فوجی شہیدوں کی توہین

رشیدالدین
’’گول مال ہے بھئی سب گول مال ہے‘‘ رشی کیش مکرجی کی فلم گول مال کے اس نغمہ کی اترپردیش میں جگہ جگہ گونج سنائی دے رہی ہے۔ رام مندر چوری معاملہ میں عوام کو بی جے پی، آر ایس ایس اور وشواہندو پریشد پر بھروسہ نہیں رہا۔ رام کے نام پر کئی سو کروڑ کی لوٹ نے رام بھکتوں کے جذبات کو مجروح کردیا ہے اور عوام یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ رام کے نام لیوا ہی چور اور لٹیرے نکلے۔ مذہبی مقامات پر رقومات کی لوٹ یوں تو عام بات ہے لیکن رام مندر چوری نے ورلڈ ریکارڈ قائم کیا ہے جہاں نقد رقم ، سونے چاندی اور جواہرات کی لوٹ کا اندازہ 1000 کروڑ سے زائد کا ہے۔ اترپردیش انتخابات سے قبل مندر کے چڑھاوے کی اس چوری نے بی جے پی کی الٹی گنتی شروع کردی ہے۔ سیاسی مبصرین اسے بی جے پی کے اترپردیش میں زوال کی پیش قیاسی قرار دے رہے ہیں۔ نریندر مودی ۔ امیت شاہ ہوں کہ یوگی ادتیہ ناتھ یہ تینوں رام کے نام پر ووٹ مانگنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ رام مندر کے افتتاح کے بعد یوگی ادتیہ ناتھ اور آر ایس ایس کو یقین تھا کہ عالیشان مندر کی تعمیر بی جے پی کو کامیابی دلائے گی لیکن اسے شومی قسمت کہیئے یا بی جے پی کے ہاتھ کی کمائی کے الیکشن سے قبل نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں رسوائی ہوئی ہے۔ نریندر مودی ، امیت شاہ اور یوگی ادتیہ ناتھ کیا صورت لے کر رام کے نام پر ووٹ مانگیں گے؟ مبصرین کے مطابق مندر میں چندہ چوری میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے ماتھے پر بدنامی کا ایسا داغ لگادیا ہے جسے دنیا کا کوئی ڈیٹرجنٹ پاؤڈر بھی دھو نہیں پائے گا۔ اطلاعات کے مطابق بدنامی اور الیکشن ہار سے بچنے کیلئے مودی اور موہن بھاگوت میں ڈیل ہوگئی ہے تاکہ عوام کی توجہ چندہ چوری اور اس کے حقیقی ذمہ داروں سے ہٹادی جائے۔ جس شخص کی ناک کے نیچے کئی ماہ سے چندہ چوری کا دھندہ چل رہا تھا، وہ چمپت رائے بنسل ابھی بھی مزہ میں ہے کیونکہ وہ مودی ، آر ایس ایس اور وشوا ہندو پریشد کے نور نظر ہے۔ چمپت رائے جو رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری ہے، تین ماہ قبل ہی اسٹیٹ بینک آف انڈیا کے حکام نے انہیں چندہ چوری سے باخبر کردیا تھا۔ چوری منظر عام پر آنے کے بعد نریندر مودی اور آر ایس ایس کے نور نظر چمپت رائے بنسل ، انیل مشرا اور گوپال راؤ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ بڑے لٹیروں کو بچانے کیلئے چھوٹی مچھلیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تحقیقات محض آئی واش ہے اور ٹرسٹ کے ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق مودی اور بھاگوت ڈیل میں طئے کیا گیا کہ 6 جولائی کو ٹرسٹ کے اجلاس میں چمپت رائے ، انیل مشرا اور گوپال راؤ کا استعفیٰ حاصل کرلیا جائے لیکن ان کے نام ایف آئی آر میں آنے نہ پائیں اور نہ ہی انہیں گرفتار کیا جائے۔ موہن بھاگوت کو آر ایس ایس کی بدنامی کی فکر ہے۔ نریندر مودی ٹرسٹ پر گجرات کا کنٹرول قائم کرنے کیلئے کسی عہدیدار کو سی ای او کے طور پر مقرر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ بڑے لٹیروں کو بچانے کیلئے جن چھوٹی مچھلیوں کو گرفتار کیا گیا ، ان میں کسی کے گھر پر بلڈوزر نہیں چلا ، حالانکہ پولیس نے 80 لاکھ روپئے نقد برآمد کئے ہیں۔ اگر چندہ چوری میں کوئی مسلمان ملوث ہوتا تو ابھی تک اس کا انکاؤنٹر ہوجاتا اور گھر کو بلڈوزر سے منہدم کردیا جاتا۔ یوگی کا بلڈوزر اب خاموش کیوں ہے؟ اترپردیش میں کوئی مسلمان معمولی جرم کیوں نہ کرے ، اس کا انکاؤنٹر کیاجارہا ہے اور گھر پر بلڈوزر چل رہا ہے۔ چندہ چوری کے اس معاملہ نے مودی اور یوگی میں دوریاں پیدا کردی ہیں۔ نریندر مودی نے ٹرسٹ کے تمام ناموں کو قطعیت دی تھی اور چمپت رائے ان کا انتخاب ہے۔ چمپت رائے پر مہربانی کے سلسلہ میں سوشیل میڈیا اور اخبارات میں مختلف کہانیاں منظر عام پر آرہی ہیں۔ چمپت رائے کے بارے میں اطلاع ہے کہ انہوں نے ٹرسٹ میں یوگی ادتیہ ناتھ کو شامل ہونے نہیں دیا۔سیاست سے بڑا کوئی مذہب نہیں اور مذہب سے بڑی سیاست نہیں ہوتی۔ اسی اصول کے تحت بی جے پی اور آر ایس ایس میں اترپردیش میں انتخابات کی تیاری شروع کردی ہے۔ سماجوادی پارٹی اور کانگریس کو مسلمانوں کی تائید کے بارے میں بی جے پی اس لئے بھی فکرمند نہیں ہے کیونکہ مغربی بنگال اور بہار میں ووٹ چوری کے ذریعہ مسلم اکثریتی علاقوں میں بی جے پی نے کامیابی حاصل کی۔ اترپردیش میں مسلم قابل لحاظ آبادی والے اسمبلی حلقوں کی تعداد 140 سے زائد ہے اور بی جے پی نے ابھی سے ان حلقوں پر توجہ مرکوز کردی ہے۔ ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن جب ساتھ ہو تو پھر ڈر کس بات کا ۔ جب تک گیانیش کمار الیکشن کمیشن میں رہیں گے ، انتخابی نتائج میں الٹ پھیر ہوتی رہے گی۔ بات الیکشن کمیشن کی چلی ہے تو ہمیں راجیو کمار یاد آگئے جو چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے ایک سال قبل سبکدوش ہوئے تھے۔ ان کے دور میں ووٹ چوری کا آغازہوا تھا۔ راجیو کمار کو HDFC بینک کا صدرنشین مقرر کیا گیا ہے۔ یہ ان کی قابلیت کی بنیاد پر ہے یا پھر ووٹ چوری کا انعام اس کا فیصلہ عوام کریں گے۔ موجودہ چیف الیکشن کمشنر اور دیگر دو کمشنرس دراصل بی جے پی کے الیکشن ایجنٹس کا رول ادا کر رہے ہیں۔ وہ جب بھی سبکدوش ہوں گے ، مودی حکومت ضرور کسی نہ کسی انعام سے نوازے گی۔
ہندوستان میں گزشتہ 12 برسوں میں عوام نے نریندر مودی حکومت کے کئی اسکامس دیکھے ہیں لیکن شہیدوں کی قربانیوں کے اسکام نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔ آپریشن سندور کے دوران ہندوستانی جانباز سپاہیوں کی شہادت کے بارے میں مودی حکومت نے 13 مہینوں تک ملک کو گمراہ رکھا۔ شہیدوں کی تعداد اور ان کے نام 13 مہینے بعد حکومت نے جاری نہیں کئے بلکہ از خود منظر عام پر آگئے جب نئی دہلی میں واقع وار میموریل پر 6 شہید جوانوں کے نام شامل کئے گئے ۔ وار میموریل پر ناموں کی شمولیت کے ساتھ ہی ملک بھرمیں مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ اس نے شہیدوں کی توہین کی ہے۔ آپریشن سندور میں ملک پر جان نچھاور کرنے والے ہندوستانی سپاہیوں کے ناموں کو مخفی رکھنے کی آخر کیا ضرورت تھی۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت جوانوں کی قربانیوں سے قوم کو واقف کراتی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو قوم کو جواب دینا ہوگا کہ آخر شہیدوںکی توہین کیوں کی گئی۔ جون 2020 میں گلوان وادی میں چین کے ساتھ جھڑپ کے موقع پر بھی ہندوستان نے شہید جوانوں کے ناموں کو مخفی رکھا تھا۔ 7 مئی کو آپریشن سندور کا آغاز ہوا اور پاکستانی حدود میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ 10 مئی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مداخلت کرتے ہوئے سیز فائر کا اعلان کردیا۔ آپریشن سندور کے دو ماہ 18 دن بعد وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے 28 جولائی 2025 کو پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آپریشن میں ایک بھی ہندوستانی جوان کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ راج ناتھ سنگھ نے پارلیمنٹ سے قوم کو گمراہ کرنے کیلئے سفید جھوٹ کیوں بولا تھا ؟ اگر راج ناتھ سنگھ کے بیان پر بھروسہ کیا جائے تو کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیراعظم کے اشارہ پر فوج نے خود انہیں بھی شہیدوں کے ناموں سے بے خبر رکھا ہو۔ دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ مودی حکومت نے آپریشن سندور کے دوران اپنی برتری ثابت کرنے اور دنیا بھر میں اپنے امیج کو برقرار رکھنے کیلئے شہیدوں کے ناموں کا انکشاف نہیں کیا۔ یہ دراصل فوجی جوانوں کی توہین ہے۔ اگر آپریشن کے وقت ہی ناموں کا انکشاف کیا جاتا تو سارا ملک شہید جوانوں کو خراج پیش کرتا۔ شہیدوں کی خاموشی سے آخری رسومات انجام دی گئیں اور مودی اور راج ناتھ سنگھ نے بھی خراج پیش نہیں کیا۔ اب جبکہ وار میموریل پر شہیدوں کے نام شامل کئے گئے تو ایسے میں ان کے افراد خاندان کے جذبات کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ ملک پر جان نچھاور کرنے والے جوانوں کی آخری رسومات سرکاری اور فوجی اعزاز کے ساتھ عوام کے درمیان ادا کی جانی چاہئے تھی ۔ آخر شہیدوں کے نام مخفی رکھنے میں مودی حکومت کو کیا فائدہ ہوا۔ جس طرح سیاسی معاملات میں مودی حکومت اپوزیشن پر اپنی برتری قائم رکھنے کیلئے کسی بھی حد تک جاسکتی ہے، اسی طرح ملک پر جان نچھاور کرنے والے جوانوں کے ساتھ بھی مذاق کیا گیا ہے۔ مودی حکومت کے پاس شہید فوجی جوانوں کیلئے بھی کوئی احترام نہیں ہے جنہوں نے پہلگام میں دہشت گرد کارروائی کرنے والے پاکستانی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا صفایا کرتے ہوئے اپنی ملک پر قربان کردی۔نریندر مودی اور ان کے ساتھیوں کو ملک سے زیادہ اپنی امیج کی فکر ہے۔ بشیر بدر کا یہ شعر ان پر صادق آتا ہے ؎
شہرت کی بلندی بھی پل بھر کا تماشہ ہے
جس ڈال پہ بیٹھے ہو وہ ٹوٹ بھی سکتی ہے