شہریت ترمیم بل تقسیم‘ خوف اور عدم تحفظ کاسبب۔ اپوزیشن

,

   

بی جے ڈی‘ اے ائی اے ڈی ایم کے اور وائی ایس آر سی پی کی بل کوحمایت کے ساتھ سابق بی جے پی ساتھی شیو سینا نے کھل کر بل کی مخالفت نہیں کی ہے‘ مذکورہ برسراقتدار اتحاد 240ممبرس کے ایوان میں ادھے کی حمایت حاصل کرنے کے لئے پر امید جبکہ پانچ سیٹیں مخلوعہ ہیں۔

نئی دہلی۔ بی جے پی کی زیر قیادت حکومت پرائین کی بنیادی ڈھانچہ کی خلاف ورزی اور مساوات اور مذہبی خطو ط پر امتیاز سے روکنے کے دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور

تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے کے علاوہ مسلمانوں کے ذہنوں میں خوف پید ا کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے پیر کے روز اپوزیشن جماعتوں نے شہریت ترمیمی بل کی شدت کے ساتھ مخالفت کی مگر لوک سبھا میں اس کوروکنے میں ناکام رہے جہاں پر این ڈی اے کو اکثریت حاصل ہے۔

وہیں تلنگانہ راشٹریہ سمیتی (ٹی آر ایس) بل کی مخالفت میں حکومت کے ساتھ کھڑی رہی‘ راجیہ سبھا میں بل کو روکنے میں اس کی حمایت کافی نہیں ہوگی کیونکہ تعداد حکومت کی حمایت میں نظر آرہی ہے۔

بی جے ڈی‘ اے ائی اے ڈی ایم کے اور وائی ایس آر سی پی کی بل کوحمایت کے ساتھ سابق بی جے پی ساتھی شیو سینا نے کھل کر بل کی مخالفت نہیں کی ہے‘

مذکورہ برسراقتدار اتحاد 240ممبرس کے ایوان میں ادھے کی حمایت حاصل کرنے کے لئے پر امید جبکہ پانچ سیٹیں مخلوعہ ہیں۔لوک سبھا میں سات گھنٹوں تک چلنے والی بحث میں اپوزیشن نے پیر کے روز بل کو مذہبی بنیاد پر پیش کرنے اور ائینی اصولوں کی خلاف ورزی کرنے پر اعتراض جتایا۔

ان پر لگائے گئے الزامات پر جب ہوم منسٹر امیت شاہ جواب دے رہے تھے انہوں نے بڑی مداخلت کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس پر ردعمل پیش کرتے ہوئے شاہ نے کہاکہ ”مجھے بھی توسنیں۔

او رمزیدکہاکہ ”اس حکومت کوپانچ سال کے لئے ووٹ ملے ہیں“۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی ایسا لگ رہا تھا کہ وہ والک اؤٹ کی تیاری کررہا ہے ہیں مگر اس سے قبل پارٹی ممبرس نے ایک پیشکش کی‘ اسپیکر اوم برلا نے ووٹوں کی تقسیم عمل میں لائی۔

بل کی حمایت میں 293اور مخالفت میں 82ووٹ ملے‘اس کے بعد بڑے پیمانے پر بحث شروع ہوگئی ہے۔مذکورہ اپوزیشن بارہا اس بات کااجاگر کررہاتھا کہ حکومت مہاتما گاندھی‘ سردار پٹیل‘ سوامی وویکا نند ا اور بی آر امبیڈکر کے نظریات کے خلاف کام کررہی ہے۔

کانگریس کے منیش تیواری نے کہاکہ ”برسراقتدار پارٹی جانتی ہے اس نے یہ قانون کیوں لایا ہے‘ ہم بھی جانتے ہیں یہ قانون کس لئے لایاگیا ہے۔

میں اس حکومت کو صرف اتنا ہی بتانا چاہتاہوں کہ ”تاریخ کی آنکھوں نے وہ آسمان بھی دیکھیں ہیں‘ لمحوں نے خطاء کی اور صدیوں نے سزا پائی ہے“۔

لوک سبھا میں کانگریس کے فلور لیڈر ادھیر رنجن چودھری نے کہاکہ ”فطری طور پر امتیازکی وجہہ سے ہم بل کی مخالفت کررہے ہیں۔ائین کی ہر بنیاد کو اس میں توڑا گیا ہے۔

یہ ہندو راشٹرا کی طرف پیش قدمی ہے‘ آیا گائے کا رنگ کچھ بھی رہے ددوھ سفید ہوتا ہے۔ کوئی بھی مذہب رہے‘ انسانیت اس میں شامل ہوتی ہے۔ ہندوستان کو اپنے انسانیت اقدار کو برقرار رکھناچاہئے“۔

حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اے ائی ایم ائی ایم کے صدر نے حکومت پر مسلمانوں سے ”نفرت“ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بل کو پھاڑ دیا اور کہاکہ حکومت مسلمانوں کو مجبور اور بے گھر کرنے کی سازش کررہی ہے۔

ترنمول کانگریس کے ایم پی ابھیشک بنرجی نے کہاکہ ”این آر سی ایک لالی پاپ ہے جبکہ سی اے بی ایک بڑا لالی پاپ۔ یہ بل مخالف ہندوستان او رمخالف بنگال ہے۔

ایک زبان‘ ایک تہذیب اور ایک ثقافت والے بنگالی لوگوں کے درمیان یہ تقسیم پیدا کرنے والا ہے“