پنکھے ، کولر اور اے سی کا استعمال بڑھ گیا ۔ یومیہ برقی کی طلب میں 5 ملین یونٹ کا اضافہ
حیدرآباد ۔ 13فبروری ( سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں اچانک گرمی کے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے جس سے ایک طرف عوام دوسری طرف محکمہ برقی کی پریشانیوں میں اضافہ ہورہا ہے ۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ شیوراتری کے بعد گرمی کا آغاز ہوجاتا ہے لیکن اس مرتبہ ابھی سے سورج کی تپش میں اضافہ ہورہا ہے اور گریٹر حیدرآباد میں برقی کی طلب میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ صبح 10 بجے سے گرمی کی شدت محسوس ہونے لگی ہے ۔ گذشتہ دو دن سے شہر میں کم از کم درجہ حرارت 17 ڈگری سیلسیس اور زیادہ سے زیادہ 35.4 سیلسیس ریکارڈ ہوا ہے ۔ چلچلاتی دھوپ سے نجات حاصل کرنے کیلئے شہری پنکھے ، کولر اور اے سی استعمال کررہے ہیں ۔ ماحول میں اچانک تبدیلیوں کو جسم برداشت نہیں کرپارہا ہے ۔ دراصل دو دن قبل تک سردی کی وجہ سے پنکھے بھی زیادہ استعمال نہیں ہورہے تھے ۔ فی الحال اے سی کھولنے کی نوبت آگئی ہے ۔ گھریلو برقی کے علاوہ تجارتی استعمال میں بھی برقی کی زیادہ کھپت ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ سرکاری و خانگی دفاتر پوری طرح کام کررہے ہے جس کی بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ۔ ماہ فبروری کے پہلے ہفتہ میں شہر میں یومیہ برقی کی طلب 52 ملین یونٹس تھی جو اب بڑھ کر 57 ملین یونٹ تک پہنچ گئی ہے ۔ ہر ماہ کے دوسرے ہفتہ کو تعلیمی ادارو ں اور سرکاری دفاتر کو تعطل رہتی ہے ۔ کام کے دنوں کی بہ نسبت تعطیلات میں برقی کی طلب کم ہوتی ہے لیکن اس کے برعکس برقی کی ریکارڈ کھپت تشویشناک حالت کی دستک تسلیم کی جارہی ہے ۔ ڈسکام کی جانب سے اندازہ لگایا جارہا ہے کہ مارچ کے اوآخر تک برقی کی طلب یومیہ 75 ملین یونٹ سے 80ملین یونٹ تک پہنچ سکتی ہے ۔ برقی کی طلب میں اچانک اضافہ کی وجہسے سب اسٹیشنس کے فیڈرس پر دباؤ بڑھ گیا ہے ۔ آئیل کے لیکیجس کو درست نہ کرنے کی وجہ سے ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرس دباؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے پھٹ پڑرہے ہیں ۔ن