قواعد میں ذاتی اراضی لازمی، 10 لاکھ درخواستوں میں تاحال 3 لاکھ درخواست گذار نااہل
حیدرآباد ۔ 11 جنوری (سیاست نیوز) گریٹر حیدرآباد میں اندراماں ہاؤزنگ اسکیم کیلئے کئے جانے والے سروے میں انکشاف ہوا ہیکہ 90 فیصد درخواست گذار کرائے کے گھروں میں رہ رہے ہیں۔ جاری کردہ قواعد کے مطابق یہ لوگ اسکیم کیلئے اہل نہیں ہیں۔ جی ایچ ایم سی کے 150 ڈیویژنس اور کنٹونمنٹ بورڈ کے 8 ڈیویژنس کے حدود سے پرجاپالنا پروگرام کے دوران مکانات کیلئے 10 لاکھ خاندانوں نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ حکام متعلقہ خاندانوں کی اہلیت کا جائزہ لینے کیلئے گھر گھر پہنچ کر سروے کررہے ہیں جس میں یہ بات سامنے آئی ہیکہ ان میں سے تقریباً 90 فیصد درخواست گزار کرایوں کے گھروں میں قیام پذیر ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ یہ سب 5 لاکھ روپئے کی مالی امداد کی اسکیم کیلئے نااہل ہیں کیونکہ مکانات کی تعمیر کیلئے ان کے پاس ذاتی اراضی نہیں ہے۔ دیہاتوں کی صورتحال پوری طرح تبدیل ہے۔ شہر حیدرآباد میں اراضیات کی قیمتیں زیادہ ہونے کی وجہ سے غریبوں کے پاس ذاتی مکان نہیں ہے۔ عوام غربت کا شکار ہیں اور سلم علاقوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہاؤزنگ اسکیم کیلئے جو قواعد تیار کئے گئے ہیں اس کو تبدیل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کررہے ہیں۔ تلنگانہ کی کانگریس حکومت نے ذاتی اراضی پر مکان کی تعمیر کیلئے فی کس پانچ لاکھ روپئے کی مالی امداد دیتے ہوئے ریاست بھر میں 4 لاکھ 50 ہزار مکانات تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ذاتی اراضیات پر مکانات تعمیر کرنے والوں کو پہلے ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کیلئے سروے کا آغاز کیا ہے جس میں درخواست گذار جن گھروں میں رہ رہے ہیں وہ ان کی ذاتی ملکیت ہے یا کرایہ کے گھروں میں قیام پذیر ہیں اس کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ کرایہ کے گھروں میں رہنے والوں سے کہیں ذاتی اراضی ہے کیا سوال کیا جارہا ہے۔ جس میں 90 فیصد افراد نے اراضی نہ ہونے کا جواب دیا ہے۔ اندراماں ہاؤزنگ اسکیم سے استفادہ اٹھانے کیلئے شہر میں کم از کم 45 گز رجسٹرڈ اراضی ہونا لازمی ہے۔ چند لوگوں کے پاس نوٹری اراضیات ہیں۔ عہدیدار ایسی اراضیات کو مالی امداد دینے کیلئے بھی نااہل قرار دے رہے ہیں۔ حکومت نے اسکیم کے پہلے مرحلہ میں ہر اسمبلی حلقہ کیلئے 3500 مکانات منظور کئے ہیں۔ اس لحاظ سے گریٹر حیدرآباد کے 24 اسمبلی حلقوں کیلئے 84 ہزار مکانات منظور ہوئے ہیں۔ وصول ہوئے 10 لاکھ درخواستوں میں 3 لاکھ درخواستوں کا سروے مکمل ہوا ہے جس میں 90 فیصد افراد اسکیم کیلئے نااہل قرار دیئے گئے ہیں۔ شہر کے عوام ذاتی اراضی کی شرط سے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے سے محروم ہونے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔2