حیدرآباد 4 جون ( سیاست نیوز ) شہر میں زمینی سطح سے اوزون گیس کے اخراج میں موسم گرمی میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجہ میں فضاء زہرآلود ہوگئی ہے ۔ سنٹر فار سائینس اینڈ انوائرنمنٹ کی اسٹڈی کے مطابق دہلی ۔ این سی آر ‘ ممبئی ‘ کولکاتہ ‘ حیدرآباد ‘ چینائی اور بنگلورو میں اوزون گیسوں کا اخراج بہت زیادہ ہوگیا ہے ۔ یہ معمول سے زیادہ ہے ۔ یہ جائزہ مارچ 2019 سے مئی 2022 کے درمیان لیا گیا ہے ۔ دہلی ۔ این سی آر میں اوزون گیسوں کا اخراج موسم گرما کے تمام ایام میں ہوا ہے جبکہ چینائی اور بنگلورو میں گرمی کی طوالت میں ایسا ہوا ہے ۔ ممبئی اور کولکاتہ میں 75 دن اور 43 دن اوزون گیسوں کا اخراج زیادہ رہا ۔ حیدرآباد میں جاریہ سال گرمی میں جملہ 43 دن اوزون گیسوں کا اخراج زیادہ رہا جب درجہ حرارت 40 ڈگری سے زیادہ درج ہوا تھا ۔ اوزون گیسوں کے اخراج کے نتیجہ میں شہر میںفضاء زہر آلود ہوتی جا رہی ہے اورا س کے نتیجہ میں عوام کو صحت کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سانس لینے میں مسائل بھی اس وجہ سے پیدا ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جن مریضوں کو دمہ کی شکایت ہو ان کیلئے صورتحال اور بھی مشکل ہوجاتی ہے ۔ چونکہ اوزون گیسوں کے اخراج کیلئے درجہ حرارت اضافی ہونا پڑتا ہے اس لئے اکثر و بیشتر ملک کے کئی شہروں میں موسم گرما کے دوران اس سطح میںاضافہ ہوتا ہے ۔ جاریہ سال ملک بھر میں گرمی کی شدت بہت زیادہ رہی ہے اور کئی شہروں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ درج کیا گیا تھا اسی وجہ سے اوزون گیسوں کے اخراج میں اضافہ درج کیا گیا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ہندوستان کی تاریخ میں جاریہ سال سب سے زیادہ گرم رہا تھا اس لئے بھی حیدرآباد میں اوزون گیسوں کے اخراج میںاضافہ ہوا اور فضاء متاثر ہوئی ہے ۔ دیگر میٹرو شہروں میں بھی یہی وجہ رہی ہے ۔