شہر میں اے پی کے زیرتصرف عمارتیں واپس لینے کی ہدایت

   

2؍جون کے بعد حیدرآباد مشترکہ صدر مقام نہیں رہے گا: چیف منسٹر

حیدرآباد۔15۔ مئی (سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ 2جون 2024کے بعد آندھراپردیش کے زیرتصرف عمارتوں جیسے لیک ویو گیسٹ ہاؤز وغیرہ واپس حاصل کرنے کے اقدامات کا آغاز کریں۔انہوں نے بتایا کہ 2 جون 2024کو تقسیم ریاست آندھراپردیش کے قانون کے مطابق شہر حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ صدر مقام نہیں رہے گا اسی لئے شہر حیدرآباد میں آندھراپردیش کو استعمال کے لئے دی گئی عمارتیں واپس حاصل کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج اپنے کابینی رفقاء کیپٹن این اتم کمار ریڈی ‘ پی سرینواس ریڈی اور مشیر ریاستی حکومت ایم نریندر ریڈی کے ہمراہ جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کیں اور کہا کہ تقسیم ریاست کا عمل مکمل ہوئے 10 سال گذرنے کے باوجود اب تک کئی مسائل جوں کے توں برقرا رہیں جن کی فوری یکسوئی کے لئے عہدیداروں کو رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ وصول طلب برقی بقایا جات کے علاوہ شیڈول 9 اور 10 میں شامل مسائل کی عدم یکسوئی کے نتیجہ میں یہ امور حل طلب ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کی جانب سے حکومت آندھراپردیش کوملازمین کے تبادلہ اور ان کی خدمات کی حوالگی کے سلسلہ میں سفارش کرتے ہوئے اس مسئلہ کی آپسی مشاورت کے ذریعہ یکسوئی کے اقدامات کئے جائیں گے جبکہ شیڈول 9 اور 10 میں شامل امور کی یکسوئی کیلئے فوری اقدامات کی ہدایت جاری کی گئی ۔ بتایاجاتا ہے کہ جائزہ اجلاس کے دوران چیف منسٹر نے ریاست میں دھان کی خریدی سے متعلق آگہی حاصل کی۔ انہوں نے 18 مئی بروز ہفتہ ریاستی کابینہ کا اجلاس کا فیصلہ کیا جس میں کسانوں کے قرض کی معافی ‘ تقسیم ریاست آندھراپردیش ایکٹ 2014 کے حل طلب امور‘ دھان کی خریدی اور آئندہ موسم خریف کی تیاریوں کے سلسلہ میں تبادلہ خیال کرتے ہوئے اہم فیصلے کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی نے آج منعقد ہوئے اجلاس کے دوران کہا کہ ریاست میں لوک سبھا انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے اور اب حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے سلسلہ میں اقدامات کا آغاز کرے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست آندھراپردیش کی تقسیم کے قوانین کے مطابق جن امور کو اب تک حل نہیں کیاجاسکا ہے اس کے متعلق تفصیلی رپورٹ تیار کرنے کی ہدایت دی جاچکی ہے اور آئندہ کابینہ کے اجلاس میں ان امور کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو حل کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔3