حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : حیدرآباد پولیس اور انسانی حقوق تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی کئی کاوشوں کے باوجود شہر میں بچہ مزدوری جاری ہے جو تشویش کا باعث ہے ۔ پولیس جو بچہ مزدوری کے خلاف سال میں دو مرتبہ جنوری میں آپریشن اسمائیل اور جولائی میں آپریشن مسکان کے نام سے کارروائی کرتی ہے ہر آپریشن میں شہر کے حدود میں چوڑیاں تیار کرنے والے یونٹس سے 20 تا 50 بچوں کو بچہ مزدوری سے چھٹکارا دلاتی ہے ۔ قبل ازیں پرانا شہر ہیومن ٹریفکنگ میں ملوث افراد کے لیے ایک محفوظ مقام ہوا کرتا تھا اور وہ بچوں کا استحصال کیا کرتے تھے لیکن اس طرح کے افراد کے خلاف پولیس کی کارروائی کے باعث اس میں کمی ہوئی ہے ۔ تاہم گذشتہ چند برسوں میں ٹریفکرس نے پولیس اور قانون کی گرفت سے بچنے کے لیے ان کے بیس میں تبدیلی کرتے ہوئے شہر کے مضافات میں اسے قائم کیا ہے ۔ حال میں ، آپریشن مسکان VII کے حصہ کے طور پر سائبرآباد پولیس نے 10 بچوں کو بچہ مزدوری سے بچایا ہے جو جولائی میں چوڑیاں تیار کرنے کے ایک یونٹ میں کام کررہے تھے ۔ یہ مجرمین اس طرح کے طویل وقت تک پولیس سے بچنے میں کامیاب رہے جس کے دوران تین آپریشن مسکان اور اسمائیل ہوئے ۔ پانچ چھ دن قبل حیدرآباد پولیس نے پرانے شہر کے علاقہ عالیجاہ کوٹلہ میں چوڑیاں بنانے کے ایک یونٹ میں کام کرنے والے پانچ بچوں کو بچایا ۔ این جی او ’ بچپن بچاؤ آندولن ‘ کے اسٹیٹ کوآرڈینٹر اے وینکٹیشورلو نے جو بچوں کو بچہ مزدوری سے بچانے کے لیے کئی رسکیو آپریشنس میں شامل تھے ، کہا کہ بچہ مزدوری کے لیے استعمال کئے جانے والے زیادہ تر بچوں کو بہار سے یہاں لایا جاتا ہے ۔ انہیں غیر انسانی حالت میں کام کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے ۔ علاقہ عالیجاہ کوٹلہ میں کئے گئے آپریشن کے دوران ہم نے دیکھا کہ یہ گنجان آبادی والا علاقہ ہے ۔ بچے جس عمارت میں رہتے تھے وہ اس علاقہ میں تنگ گلی میں تھی ۔ انہیں صرف ایک لائٹ اور کام کے لیے درکار ایکوپمنـٹ کے ساتھ ایک تاریک کمرہ میں رکھا گیا تھا ۔ انہیں صبح 8 تا 11 بجے شب کام کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان بچوں کو بہار سے لایا گیا تھا کیوں کہ وہ حیدرآباد اور اس کے اطراف کے علاقوں کے مزدور کے مقابل کم اجرت پر کام کرتے ہیں ۔ وہ لوگ ان بچوں کو ایک سال یا چھ مہینوں کے کنٹراکٹ پر لاتے ہیں اور ان کا استحصال کرتے ہیں ۔ دھاؤں کے دوران بچہ مزدوری کروانے والے لوگوں ہی کو پکڑا گیا تاہم اس جرم کا ارتکاب کرنے والے اصل لوگ جو بچوں کو بہار سے یہاں لاتے ہیں گرفت سے بچ رہے ہیں ۔ چوڑیاں بنانے والے یونٹس میں 8 تا 11 سال عمر کے بچوں کی مانگ کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کی انگلیاں چوڑیوں میں چمکدار نگینے بٹھانے کے لیے پختہ انگلیوں کے مقابل زیادہ موزوں ہوتی ہیں ۔ اس کے علاوہ انہیں کم اجرت دی جاتی ہے ۔ وینکٹیشورلو نے یہ بات بتائی ۔ پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ بچوں سے کسی وقفہ کے بغیر صبح سے شام تک 12 گھنٹوں سے زیادہ کام کروایا جاتا تھا اور وہ سر سے پیر تک دھول میں ہوتے تھے ۔ وہ ہوا کے بغیر چھوٹے کمروں میں غیر صحت بخش حالت میں رہتے تھے ۔ یہ بچے ناقص غذا ، غذا کی کمی اور دیگر صحت کے مسائل سے دوچار تھے ۔۔