حیدرآباد ۔ 11 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : شہر کی وسعت اور اس کے گرد و نواح میں نئی کالونیز کے وجود میں آنے کے ساتھ جگہ جگہ موجود اسپیڈ بریکرس سے بڑا مسئلہ پیدا ہورہا ہے ۔ یہ اسپیڈ بریکرس اجازت کے بغیر بنائے گئے ہیں اور یہ انڈین روڈ کانگریس کے مقررہ معیار کے مطابق نہیں ہیں ۔ اس طرح کے من مانی طور پر بنائے گئے اسپیڈ بریکرس ریڑھ کی ہڈی کے مسائل سے دوچار افراد کے لیے تکلیف دہ بن گئے ہیں ۔ ایک اچھا اسپیڈ بریکر وہ ہوتا ہے جس میں گاڑیوں کے آسانی سے گذرنے کے لیے بہتر ڈھلان ہوتا ہے لیکن شہر میں جگہ جگہ بنائے گئے غیر قانونی اسپیڈ بریکرس لوگوں کے لیے تکلیف دہ بن گئے ہیں اور ان سے گاڑیوں کے لیے مسائل ہورہے ہیں ۔ ایف سی آئی کالونی سے سفر کرنے والے ایک شخص ایم سرینواس نے کہا کہ انہیں کئی اسپیڈ بمپس سے اچھل کر جانا ہوتا ہے اور یہ میرے لیے ایک مسئلہ بن گئے ہیں ۔ ان اسپیڈ بمپس کی وجہ کئی حادثات بھی ہوئے ہیں ۔ سوشیل میڈیا میں بھی غیر قانونی اسپیڈ بریکرس کے خلاف شکایتیں بھری ہوئی ہیں ۔ ایک ٹوئیٹر یوزر روی کرن راؤ نے کہا کہ حیدرآباد میں ہم انہیں سڑکوں ، کے طور پر نہیں بلکہ اسپیڈ بمپس کے درمیان جگہ کے طور پر دیکھتے ہیں ۔ ایک اور یوزر نے پوسٹ کیا کہ حیدرآباد میں تین چیزیں خطرناک حد تک بڑھ رہی ہیں ۔ ٹریفک ، اسپیڈ بریکرس اور مچھر ۔ ججس کالونی ، منصور آباد میں اسپیڈ بمپس کی تصاویر پوسٹ کرتے ہوئے انورادھا راؤ نے شکایت کی کہ ’ سڑک پر ہر چار میٹر پر اسپیڈ بریکرس سے صورتحال خراب ہی ہوگی ، اسپیڈ کو کنٹرول کرنے کے لیے سی سی کیمرے لگائے جانے چاہیے نہ کہ عام آدمی کو مشکلات میں ڈالا جائے ‘ ۔ تاہم جی ایچ ایم سی کے عہدیداروں نے یہ کہتے ہوئے خود کو بری الذمہ کرلیا کہ یہ اسپیڈ بمپس غیر قانونی ہیں اور انہیں کارپوریشن کی جانب سے نہیں بنایا گیا ہے ۔ جی ایچ ایم سی کے ایک سینئیر انجینئرنگ عہدیدار نے کہا کہ ’ آئی آر سی رہنمایانہ خطوط کے مطابق اسپیڈ بریکرس ان کے پھیلاؤ میں کم از کم چھ فیٹ ہونے چاہئے ۔ انہیں پینٹ کرنا چاہئے دونوں جانب سائن بورڈس کے ساتھ جس میں بمپ کی موجودگی کے بارے میں اشارہ کیا جانا چاہئے ۔ ان دنوں جی ایچ ایم سی نے اس کے مختلف سڑک تعمیر کرنے کے پراجکٹس میں اسپیڈ بمپس سے رمبل اسٹرپس کو اختیار کیا ہے ۔ کالونی والوں کو جی ایچ ایم سی کی جانب سے بنائی گئی سڑکوں میں تبدیل کرنے کا حق نہیں ہے ۔ اگر وہ اسپیڈ بریکر کی ضرورت محسوس بھی کریں تو انہیں ٹریفک پولیس اور پھر جی ایچ ایم سی سے اس کے لیے اجازت حاصل کرنا ہوتا ہے ۔ غیر قانونی اسپیڈ بمپس جی ایچ ایم سی ایکٹ کے تحت قابل سزا ہیں ۔۔