شہر میں گنیش جلوس کا پرامن اہتمام ۔ پولیس کے وسیع تر انتظامات

   

انچارچ وزیر پونم پربھاکر نے فضائی سروے کیا ۔ 25 ہزار ملازمین پولیس کی تعیناتی ۔ ڈی جی پی نے بھی جائزہ لیا
حیدرآباد 17 ستمبر (سیاست نیوز) شہر میں گنیش جلوس پرامن رہا ہے۔ رات دیر گئے تک حسین ساگر جھیل میں گنیش مورتیوں کا وسرجن جاری ہے۔ حیدرآباد پولیس کمشنر سی وی آنند نے کہا کہ چہارشنبہ کو ورکنگ ڈے ہے لہٰذا چہارشنبہ کی صبح تک تمام مورتیوں کا وسرجن کرنے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ وزیرٹرانسپورٹ و حیدرآباد انچارج وزیر پونم پربھاکر نے میئر حیدرآباد جی وجئے لکشمی کمشنر جی ایچ ایم سی، کلکٹر حیدرآباد اور حیدرآباد پولیس کمشنر کے علاوہ دیگر عہدیداروں کے ساتھ ہیلی کاپٹر میں فضائی سروے کرکے گنیش وسرجن کا جائزہ لیا۔ ریونت ریڈی کو گنیش وسرجن کا حسین ساگر پہنچ کر جائزہ لینے والے پہلے چیف منسٹر بننے کا اعزاز ملا ہے۔ حیدرآباد میں گنیش جلوس کو پرامن بنانے 25 ہزار پولیس ملازمین کی خدمات سے استفادہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ والینٹرس کی بھی خدمات حاصل کی گئی۔ شہر میں سب سے بڑا گنیش خیرت آباد میں بٹھایا جاتا ہے جس کے 70 سال مکمل ہونے پر کمیٹی نے اس سال 70 فیٹ اونچی گنیش مورتی بٹھائی تھی ۔ دوپہر میں اس کا وسرجن کردیا گیا۔ اس وقت چیف منسٹر ریونت ریڈی موجود تھے۔ ہر سال گنیش کے موقع پر بالاپورلڈو کے ہراج کے چرچے ہوا کرتے ہیں تاہم اس بار مضافاتی علاقہ بنڈلہ گوڑہ جاگیر گنیش نے نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ لڈو 1.87 کروڑ روپئے میں ہراج ہوا ہے۔ مسلسل گنیش جلوس پر نظر رکھنے والے حیدرآباد کے پولیس کمشنر سی وی آنند نے کہا کہ گذشتہ سال کی بہ نسبت اس سال ساوتھ ایسٹ اور ساوتھ ویسٹ کے گنیشوں کا جلد وسرجن کرنے کے اقدامات کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں ایک لاکھ گنیش بٹھانے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ چہارشنبہ کی صبح تک تمام گنیش کے مورتیوں کے وسرجن کی کوشش کی جارہی ہے۔ ڈی جی پی ڈاکٹر جتندر نے کہا کہ شہر حیدرآباد کے بشمول ریاست بھر میں گنیش وسرجن پرامن رہا ہے۔ حساس مقامات پر پولیس کی جانب سے سخت نظر رکھی گئی تھی۔ کہیں کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ بھینسہ و دیگر علاقوں میں گنیش مورتیوں کا وسرجن مکمل ہوگیا ہے۔ ڈی جی پی آفس میں کنٹرول روم قائم کیا گیا۔ وہ تمام پولیس کمشنرس اور ضلع ایس پیز سے مسلسل رابطہ بنائے ہیں۔ حیدرآباد کے کمانڈ کنٹرول سے بھی مکمل نظر رکھی جارہی ہے۔2