شہر کی 54 فیصد آبادی میں اینٹی باڈیز

   

کورونا کا شکار ہوکر صحتیاب ہوجانے کا قیاس۔ سروے
حیدرآباد۔ حیدرآباد میں 54 فیصد آبادی کی قوت مدافعت بہتر ہے اور ان میں اینٹی باڈیز پائی جاتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 54 فیصد آبادی کورونا سے متاثر بھی ہوئی اور اس پر قابو بھی پالیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ حیدرآباد کورونا سے حفاظت کے معاملے میں زیادہ بہتر ریکارڈ رکھتا ہے اور جاریہ ٹیکہ اندازی مہم سے ریاست میں کورونا سے متاثر ہونے کی شرح اور بھی کم ہوجائے گی ۔ ایک پریس کانفرنس میں ڈائرکٹر سی سی ایم بی ڈاکٹر راکیش مشرا اور دوسروں نے کہا کہ سی سی ایم بی ‘ آئی سی ایم آر ‘ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن اور بھارت بائیو ٹیک کے علاوہ سی ایس آئی آر کی مشترکہ کاوشوں سے پتہ چلا ہے کہ حیدرآباد میں دوسرے شہروں کی بہ نسبت عوام میں اینٹی باڈیز زیادہ ہیں۔ ڈاکٹر راکیش مشرا نے کہا کہ ایک اندازہ کے مطابق 54 فیصد آبادی کورونا وائرس کا شکار ہوئی تھی اور ان میں از خود اینٹی باڈیز پیدا ہوگئے ہیں۔ کہا گیا ہے کہ تقریبا 9000 افراد پر ایک سروے کرتے ہوئے یہ نتائج اخذ کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسدانوں نے شہر کے 150 کے منجملہ 30 وارڈز کے لوگوں میں مختلف طریقوں سے یہ معائنے کئے ہیں۔ ہر وارڈ سے 300 افراد کو منتخب کیا گیا تھا ۔ اس اسٹڈی میں پتہ چلا ہے کہ شہر کی نصف آبادی میں اینٹی باڈیز پائی جاتی ہیں اور تقریبا 54 فیصد آبادی ایسی ہے جو کورونا وائرس کا شکار تو ہوئی تھی تاہم ان میں اینٹی باڈیز بن گئی ہیں جن کی وجہ سے یہ لوگ اس وائرس پر قابو اپنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔