1000 کروڑ روپئے کے مصارف ، دیڑھ سال میں تعمیرات مکمل کرنے کا نشانہ ، ڈیزائن تبدیل کرنے چیف منسٹر کا مشورہ
حیدرآباد ۔ 6 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد میں ایک ہزار کروڑ روپئے کے مصارف سے تعمیر کئے جانے والے تین سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کی تعمیرات کے لیے ٹنڈرس کا عمل مکمل ہوگیا ہے ۔ ایل بی نگر کے قریب گڈی انارم مارکٹ کے احاطہ میں ایک ، صنعت نگر کے ایرگڈہ چیسٹ ہاسپٹل کے احاطہ میں دوسرا اور الوال کے قریب تعمیر ہونے والے تیسرے ہاسپٹل کے لیے ٹنڈرس کو میگھا ۔ ایل اینڈ ٹی اور ڈی ای سی جیسی شہرت یافتہ کمپنیوں نے حاصل کرلیا ہے ۔ محکمہ صحت کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کے ڈیزائن پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے ڈیزائن میں تبدیلیاں لائی جارہی ہیں ۔ محکمہ صحت کے رہنمایانہ خطوط کے تحت سڑکیں ، محکمہ عمارت و شوارع کے تعاون سے ہاسپٹلس کی عمارتیں تعمیر کرنے کا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔ ٹنڈرس کا عمل مکمل ہوگیا ۔ ڈیزائن کو قطعیت دینے کے بعد تعمیری کاموں کا آغاز ہوگا ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس کی تعمیرات میں عالمی معیار کو برقرار رکھتے ہوئے ملک کے لیے مثالی ثابت ہونے والی عمارتیں تعمیر کرنے ساتھ تمام بنیادی سہولتوں پر خصوصی توجہ دینے بالخصوص ہیلی کاپٹر کے بھی ایمرجنسی لینڈنگ کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا ہے ۔ ہاسپٹلس میں آپریشن کے دوران اعضا کی پیوندکاری کے لیے اعضا کی منتقلی کے لیے علحدہ راہ ہموار کرنے کا مشورہ دیا ۔ ابھی تک کارپوریٹ ہاسپٹلس کی وجہ سے حیدرآباد کو ہیلت ہب کا اعزاز حاصل ہوا ہے ۔ مستقبل میں سرکاری شعبہ میں غریب عوام کو معیاری طبی خدمات انجام دینے کیلئے سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹلس تعمیر کرنے کا حکومت نے منصوبہ تیار کیا ہے ۔ اس کیلئے حکومت ایک سرکاری سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل کو ایک سوپر اسپیشالیٹی سنٹر آف ایکسیلنس کے طور پر ترقی دے رہی ہے ۔۔ ن