شہر کے رہائشی علاقوں میں 23 ہزار اسکراپ اور کیمیکل گودامس

   

آئے دن مہیب آتشزدگی کے واقعات عوام میں ڈر و خوف، حکام خاموش تماشائی
حیدرآباد۔ 7 مارچ (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے مختلف علاقوں میں آتشزدگی کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ شہر کے کئی ایسے رہائشی علاقے جہاں آج بھی اسکراپ اور کمیکل کے گودام موجود ہیں جہاں ہر سال حادثاتی واقعات پیش آتے ہیں اور عہدیدار خواب غفلت میں ہیں۔ شہر سے دور ان کی منتقلی کے لئے کوئی اقدامات نہیں کررہے ہیں۔ جب بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے عہدیداروں کی جانب سے دوڑ دھوپ کرتے ہیں اس کے بعد انہیں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ کل شام کو ہی کشن باغ روڈ پر اسکراپ کے گودام میں مہیب آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا ہے جس کے بعد دیگر علاقوں میں جہاں اسکراپ اور کمیکل کے گودامس ہیں وہاں کے عوام میں ڈر و خوف پیدا ہوگیا ہے۔ ان کا حکام سے سوال ہے۔ ان اسکراپ اور کمیکل کے گوداموں کو عوام کی جانیں یا بڑا مالی نقصان ہونے پر ہی منتقل کیا جائے گا کہا؟ جب بھی حادثہ پیش آتا ہے، عہدیداران گوداموں کو شہر سے باہر منتقل کردینے کا اعلان کرتے ہیں پھر اس کے بعد بھول جاتے ہیں۔ موسم گرما میں ایسے واقعات بڑھ جاتے ہیں جس سے شہریوں میں پھر سے خوف بڑھ گیا ہے۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 23 ہزار سے زیادہ گودامس ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے جس میں 6 ہزار تک کمیکل گودامس ہیں۔ گوداموں میں آگ لگنے کی کئی وجوہات ہیں۔ یہ عارضی طور پر تعمیر کئے گئے ہیں اور ساتھ ہی رہائش علاقوں میں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ لکڑی سے تعمیر کردہ گودامس ہیں اور غریب عوام کے کچے مکانات بھی ہیں۔ جو آگ لگتے ہی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ وہاں فائر انجن کی بھی سہولت نہیں ہے۔ گھر میں گیس سلنڈر اور برقی سربراہی بھی چھوٹے حادثات کو پھیلنے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ 13 نومبر 2023 کو نامپلی کے بازار گھاٹ میں پیش آئے آتشزدگی کے واقعہ میں 9 افراد کی موت واقع ہوگئی اور 20 افراد شدید زخمی ہوگئے۔ 24 جولائی 2024 کو ضیا گوڑہ کے وینکٹیشور نگر میں واقع ایک اپارٹمنٹ میں آگ لگ گئی جس میں باپ بیٹی کی موت واقع ہوگئی۔ عوام حکومت بالخصوص جی ایچ ایم سی سے مطالبہ کررہے ہیں کہ رہائشی علاقوں سے اسکراپ اور کمیکل کے گودامس کو منتقل کرتے ہوئے ان کی جان و مال کی حفاظت کریں۔ 2