استنبول اور انقرہ سمیت بڑے شہروں میں بھاری سرمایہ کاری کے منصوبے
حیدرآباد۔5۔اکٹوبر(سیاست نیوز) حیدرآباد کے رئیل اسٹیٹ تاجرین اب شہر حیدرآباد یا شہر حیدرآباد کے اطراف و اکناف ‘ مضافات میں رئیل اسٹیٹ وینچر کرنے سے زیادہ ترکیہ (ترکی) میں اپنی رئیل اسٹیٹ تجارت کو فروغ دینے کے اقدامات میں مصروف ہیں اور اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ شہر حیدرآباد میں سرمایہ کاری کرنے والوں کو ترکیہ میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کیا جائے۔ شہر حیدرآباد میں رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرنے والے سیاستداں یا ان کے قریبی تاجرین اور احباب جو مختصر مدتی سرمایہ کاری کے ذریعہ آمدنی میں اضافہ کی کوشش کرتے تھے وہ اب طویل مدتی سرمایہ کاری پر توجہ دینے لگے ہیں۔ کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن سے قبل شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے متمول افراد اور سرمایہ کار گھرانوں کی ترجیح دبئی اور متحدہ عرب امارات کے علاقوں میں تھی لیکن کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے دوران پیدا شدہ حالات اور اس مدت میں حاصل کی گئی معلومات کے باعث اب ترکیہ میں سرمایہ کاری کے رجحان میں زبردست اضافہ دیکھا جا رہاہے اور کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد کے سرکردہ رئیل اسٹیٹ تاجرین بھاری رقومات ترکیہ کے شہروں استنبول‘ انقرہ ‘ برسہ‘ ازمیر اور کونیہ میں رہائشی اور زرعی اراضیات میں مشغول کرتے ہوئے اپنی کمپنیاں کھول رہے ہیں اور ان کمپنیوں کے ذریعہ کی جانے والی سرمایہ کاری سے کم داموں میں حاصل کی جانے والی جائیدادوں کی تجارت کرنے لگے ہیں۔ ترکیہ میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی ترجیحات اور حکومت ترکیہ کی جانب سے شہریوں اور سرمایہ کاروں کے لئے دیئے جانے والے فوائد کے سلسلہ میں ہندستانی شہریوں کو واقف کروایا جا رہاہے اور کہا جا رہا ہے کہ زرعی سرگرمیوں بالخصوص زیتون اور کھجور کے باغات میں سرمایہ کاری کے علاوہ رہائشی فلیٹس کی خریدی کے لئے ہندستانی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے والے رئیل اسٹیٹ تاجرین اب حیدرآبادی ہیں جو کہ ترکیہ میں بڑے بڑے وینچرس کے ذریعہ شہر آباد کرنے لگے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ شہر حیدرآباد کے کئی رئیل اسٹیٹ تاجرین جنہیں سیاسی سرپرستی حاصل ہونے کے علاوہ وہ سیاستدانوں کی دولت سنبھالتے ہیں وہ تاجرین ترکیہ میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کے ذریعہ رئیل اسٹیٹ کاروبار کو وسعت دے رہے ہیں اور مختلف سیاحتی کمپنیوں کے ذریعہ ہندستان کے متمول اور سرمایہ دار گھرانوں کو ترکیہ بغرض سیاحت لیجاتے ہوئے انہیں زرعی و رہائشی پراجکٹس میں سرمایہ کاری کے لئے آمادہ کیا جا رہاہے ۔ ذرائع کے مطابق جن رئیل اسٹیٹ تاجرین نے ترکیہ میں کاروبار شروع کئے ہیں وہ اپنے سیاسی سرمایہ کاروں کی بڑے پیمانے پر ترکی میں سرمایہ کاری انجام دے رہے ہیں اور کہا جا رہاہے کہ شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے کئی سیاسی قائدین نے بھی ترکی میں رہائشی جائیدادوں‘ رئیل اسٹیٹ وینچرس کے علاوہ زرعی اراضیات میں سرمایہ کاری کی ہے اور شہر حیدرآباد سے ترکیہ پہنچ کررئیل اسٹیٹ تجارت سنبھالنے والے تاجرین ان کی زرعی اراضیات اور پیداوار کے علاوہ رہائشی جائیدادوں کے نگران کے طور پر خدمات انجام دینے کے علاوہ ان کے منافع اور دیگر امور کا راست خیال رکھ رہے ہیں۔م