شیخ پیٹ میں 400 سالہ قدیم قطب شاہی مسجد خستہ حالت میں

   


حیدرآباد :۔ شیخ پیٹ میں تقریبا 400 سال قدیم قطب شاہی مسجد نہایت شکستہ حالت میں ہے ۔ آرکیالوجی اینڈ میوزیمس ڈپارٹمنٹ کا زنگ آلود فریم کا سائن بورڈ اس مسجد کی شگافوں والی باونڈری سے باہر نکلنے والی بیلوں اور خشک پتوں سے ڈھک گیا ہے ۔ یہ سائن بورڈ اس قدیم مسجد کی خستہ حالت کا ایک نمونہ ہے ۔ جو جھاڑی سے گھری ہوئی ہے ۔ یہ مسجد کبھی اس میں سینکڑوں لوگ نماز ادا کرتے تھے اب ایک کھنڈر جیسی حالت میں ہے اور اسے نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ حالانکہ قطب شاہی دور کی یہ قدیم مسجد آندھرا پردیش اینشینٹ اینڈ ہسٹاریکل مانومینٹس ایکٹ کے مطابق ایک محفوظ جگہ ہے ۔ رہائشی مکانات کے درمیان موجود اس قطب شاہی مسجد میں چارمینار کی طرح دو مینار ہیں جو خستہ حالت میں ہیں اور اس کے شگافوں سے خودرو پودے اُگ آئے ہیں ۔ اس مسجد میں داخلہ ایک زنگ آلود لوہے کی گیٹ سے ہوتا ہے جس کے سامنے کا حصہ کچرا ڈالنے کا مقام بن گیا ہے ۔ اگرچیکہ اس علاقہ کے مقامی لوگ اس مسجد کی تعمیر کس سال میں ہوئی ہوگی اس کے بارے میں نہیں بتاپائے ہیں لیکن کئی لوگوں نے کہا کہ گذشتہ سال شہر میں ہوئی شدید بارش کی وجہ اس کی حالت اور بہت خراب ہوگئی ہے ۔ مورخین نے کہا کہ اس مسجد کے ڈیزائن سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کاروان میں موجود ٹولی مسجد کی ایک ابتدا تھی ۔ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ آرکیالوجی ڈپارٹمنٹ کے سائن بورڈ پر تحریر ہے کہ ’ یہ اسٹرکچر حفاظت کی ایک فیر حالت میں ہے اور زیادہ توجہ کی مستحق ہے ‘ ۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ چند سال قبل اس کی مرمت کے لیے وقف بورڈ کو ایک نوٹس روانہ کی گئی تھی لیکن اس کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔۔