شیشہ و تیشہ

   

انورؔ مسعود
خطیب …!!
مرا دوست ہے اک فلاں بِن فلاں
بلند اُسکی دانش کا پایہ رہے
خطابت میں اُس کا ہے ایسا مقام
نہ بولے تو محفل پہ چھایا رہے
…………………………
غوث خواہ مخواہ حیدرآبادی
سورج …!!
کبھی جب خود سے گھبراتا ہے سورج
ٹہل کر جی کو بہلاتا ہے سورج
تپش جب حد سے بڑھتی ہے بدن کی
سمندر میں اُتر جاتا ہے سورج
مٹانے بھوک اپنی منہ اندھیرے
اندھیروں کو نگل جاتا ہے سورج
سویرے بدلیاں جب چھیڑتی ہیں
طلوع ہونے سے شرماتا ہے سورج
سر غرب بجھا دیتا ہے خود کو
صبح ہوتے ہی جل جاتا ہے سورج
زمیں کو روشنی دینے نہ جانے
کہاں سے روشنی پاتا ہے سورج
مہینوں تک کہیں روپوش رہ کر
زمیں پر برف برفاتا ہے سورج
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے زمیں پر
مہینوں آگ برساتا ہے سورج
سویرے ؔخواہ مخواہ مجھ کو اُٹھانے
مری کھڑکی میں آ جاتا ہے سورج
…………………………
کوئی حیثیت نہیں …!!
٭ ایک ٹیچنگ ہاسپٹل میں میڈیکل طلباء کو ایک سرجن سمجھا رہا تھا کہ اس مریض کی حالت تم دیکھ رہے ہو یہ بتاؤ اس کے آپریشن کی ضرورت ہے ؟ وہاں موجود تقریباً 15 ، 20 طلباء نے کہا جی نہیں آپریشن کی ضرورت نہیں ہے ؟اس پر ڈاکٹر نے کہا ’’غلط ! میں کل اس کا آپریشن کررہا ہوں ؟‘‘
یہ سنتے ہی مریض اُٹھ گیا اور کپڑے پہنتا ہوا بولا تم آپریشن نہیں کرسکتے (15) کے مقابلے میں تمہارے ایک ووٹ کی کوئی حیثیت نہیں میں گھر جارہا ہوں۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’مسئلہ حل …!!‘‘
٭ وزیراعظم نریندر مودی نے ملک کی عوام سے کہا کہ وہ اپنے روزمرہ کے اخراجات میں کمی کریں، سونا نہ خریدیں، بیرون ملک تفریح کے منصوبوں کو منسوخ کردیں، گیس، پٹرول کے استعمال میں کفایت کے لئے پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں، ممکنہ حد تک آفس جانے کی بجائے گھر سے کام کریں تاکہ گیس، ڈیزل اور پٹرول کا خرچ کم ہو۔ و
زیراعظم کے اس اعلان کے بعد معروف یوٹیوبر مہندر سنگھ نے اپنے چینل کے ذریعہ مودی جی کو گیس اور تیل کے خرچ میں بھاری کمی لانے کے لیے ایک آسان ترین طریقہ تجویز کیا۔ چونکہ گیس اور پٹرول مسلم ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ اس کو ’’تیل جہاد‘‘ قرار دے کر اس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا جائے تو گیس اور تیل کی قلت کا مسئلہ بہت بڑی حد تک حل ہوجائے گا۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
وائرس …!!
٭ ڈاکٹر نے مریض کی میموری واش کردی
اور پوچھا: کچھ یاد آرہا ہے؟
مریض: صرف بیوی کا نام…!
ڈاکٹر: (ہنس کر)’’سب کچھ فارمیٹ ہو گیا مگر وائرس نہیں گیا…!!‘‘
محمد امتیاز علی نصرتؔ ۔ پداپلی
…………………………
کیا پہنوں گی …!!
٭ بیوی کی روز روز کی فرمائشوں سے تنگ آکر شوہر خودکشی کرنے کیلئے گلے میں پھندا ڈال رہا تھا کہ بیوی دیکھ کر بولی کیا کررہے ہو تو شوہر بولا تمہاری روز روز کی فرمائشوں سے تنگ آکر خودکشی کررہا ہوں ۔ تو بیوی بولی خودکشی سے پہلے ایک سفید ساڑھی یا سوٹ دلاتے جاؤ ورنہ تمہارے انتقال کے بعد کیا پہنوں گی …!!
مظہر قادری ۔ حیدرآباد
…………………………