مرزا یاور علی محورؔ
مہارانی …!!
نوکرانی سے ہوگئی شادی
نوک پر آگیا ہے بے چارا
وہ تو اب بن گئی مہارانی
کوئی صورت نہیں ہے چھٹکارا
…………………………
نجیب احمد نجیبؔ
دیکھتے ہیں …!!
محبتوں کی ڈگر پر نکل کے دیکھتے ہیں
جھلستی آگ میں ہر روز جل کے دیکھتے ہیں
وفا خلوص کے سانچوں میں ڈھل کے دیکھتے ہیں
دلوں کی نفرتیں ساری کچل کے دیکھتے ہیں
ہم اب کی بار نئی چال چل کے دیکھتے ہیں
چناؤ آئیں تو نیتا بدل کے دیکھتے ہیں
سنا ہے پیار کی برسات ہونے والی ہے
بغیر چھتری کے گھر سے نکل کے دیکھتے ہیں
اگرچہ دیدہ دلیری پہ ناز ہے اُس کو
تو ہم بھی اپنی حدوں سے نکل کے دیکھتے ہیں
ہمارے دم سے منور ہے کائنات نجیبؔ
مثالِ شمع مسلسل پگھل کے دیکھتے ہیں
…………………………
ضربِ یوسفی…!!
٭ اگر کوئی شخص یہ ثابت کردے کہ اس کے پاس اتنی جائیداد اور سرمایہ ہے کہ قرض کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تو بینک اسے قرض دینے پر رضا مند ہو جاتا ہے…!!
٭ بڑھیا سگریٹ پیتے ہی ہر شخص کو معاف کردینے کو جی چاہتا ہے۔خواہ وہ رشتے دار ہی کیوں نہ ہو…!!
٭ مجھے روشن خیال بیوی بہت پسند ہے ! بشرطیکہ وہ کسی دوسرے کی ہو…!!
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
پہلے دام …!!
٭ ویٹر : جناب ! آپ کھانے سے پہلے دام ادا کریں …!! مسافر : کیوں …!؟
ویٹر : اس لئے کہ کل ایک آدمی کھانا کھاتے ہی مرگیا اور منیجر نے کھانے کے دام میری تنخواہ سے کاٹے …!!
خورشید جہاں بیگم ۔ عادل آباد
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’ساس سے نجات کی مانگ‘‘
٭ آندھراپردیش کے شہر اننت پور کے ایک مندر کی ہنڈی سے ایک بیس روپئے کی نوٹ ملی جس پر لکھا تھا ’’بھگوان میں اپنی ساس کی اذیت سے تنک آچکی ہوں براہ کرم اسے جلد اپنے پاس بلالے ‘‘۔
ساس، بہو کے درمیان ان بن یا تلخیاں صدیوں پرانی روایت ہے۔ ہر وہ بہو جو آج اپنی ساس سے نالاں ہے کل اس کی بہو بھی اس سے اسی طرح نالاں رہتی ہے۔ اننت پور کی خبر پڑھ کر ہمارے ذہن میں پچھلے سال بین الاقوامی یوم کے خواتین جلسے میں سنا ایک جملہ یاد آیا۔ جہاں موقع کی مناسبت سے مقررین دنیا میں خواتین کی کامیابیوں کے تذکرے کررہے تھے۔ خواتین کا ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ ہونے کی مثالیں پیش کررہے تھے۔ صدر جلسہ نے اپنے خطاب خواتین کا مردوں کے ’’شانہ بشانہ‘‘ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے آخر میں کہا ’’کیا ہی اچھا ہوتا اگر ہماری قابلِ فخر خواتین اختلافات کی طرز کہن کے بیچ ایک رسم نو ڈالیں۔ روایتی نفرت کو محبت میں بدلیں۔ ساس بہو، نند بھاؤ، دیورانی ، جیٹھانی شانہ بشانہ ہوجائیں ‘‘۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
کیا ہوتا …!؟
بیوی : سنوجی اگر عورتوں کے لئے میک اپ نہ ہوتا تو مردوں کا کیا ہوتا …!؟
شوہر : کیا ہوتا …!؟ ہوتا کچھ نہیں …! ہاں البتہ سارے کے سارے مرد بیچارے کنوارے ہی رہ جاتے …!!
سالم جابری ۔ آرمور
…………………………
تو کیا ہوا !
٭ ایک فلمی ہیرو کو جب ڈائرکٹر نے شیر کے پنجرے میں داخل ہونے کو کہا تو وہ دہشت سے کانپنے لگا ۔ ڈائرکٹر نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا : گھبراؤ نہیں یہ پالتو شیر ہے ، اسے دودھ پر پالا گیا ہے ‘‘۔
ہیرو نے یہ سن کر کہا : ’’ابتداء میں میری پرورش بھی دودھ پر ہوئی تھی مگر میں اب گوشت کھانے لگا ہوں ‘‘۔
سید حسین سینئر جرنلسٹ ۔ دیورکنڈہ
…………………………