طالبؔ خوندمیری
سبب!!
مادرِ لیلیٰ بھی گوری، باپ بھی گُل رنگ تھا
وہ مگر کالی کلوٹی ، ہو بہو کوّا ہوئی
قیسؔ نے اِس کا سبب پوچھا تو لیلیٰ نے کہا
کیا بتاؤں ، میں اندھیری رات میں پیدا ہوئی
……………………………
ڈاکٹر سید خورشید علی ساجدؔ
دھوکے میں …!!
از اتحاد دین کو اپنے بچائیے
ہرگز نہ آپ دھوکے میں دشمن کے آئیے
طوفانِ باد و باراں ہے ، چپّو شکستہ ہے
کشتی کسی بھی طور سے اپنی بچائیے
اپنے مقام لوٹئے، اب عیش چھوڑکر
اب آپ خود کو مومنِ صادق بنائیے
کیوں بن گئے ، بتاؤ غلامانِ امریکہ
ہر طرح اپنی عسکری قوت بڑھائیے
اﷲ نے نوازا ہے دولت سے آپ کو
خود کو بھی ایک ’ایٹمی‘ طاقت بنائیے
عیاشیوں میں آپ کی دولت اُڑی بہت
اب تو خدارا اس کو نہ ایسا اُڑائیے
ہاں، امریکہ کو تیل کی سپلائی روک کر
پیروں پہ لازماً اِسے اپنے جھکائیے
گھیرا ہے اُس نے تم کو سمندر میں ہر طرف
حکمت سے ’بحری بیڑوں‘ کو اِسکے بھگائیے
ساجدؔ کی باتیں آئیں سمجھ میں خدا کرے
ہاں حوصلوں سے اِن پر عمل کر دکھائیے
…………………………
ضربِ یوسفی…!!
٭ جاڑے اور بڑھاپے کو جتنا محسوس کروگے اتنا ہی لگتا چلا جائے گا۔
٭ آدمی ایک بار پروفیسر ہو جائے تو عمر بھر پروفیسر ہی رہتا ہے، خواہ بعد میں سمجھداری کی باتیں ہی کیوں نہ کرنے لگے۔
٭ انگریزی فلموں میں لوگ یوں پیار کرتے ہیں جیسے تخمی آم چوس رہے ہوں۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
’’اس نے دنیا سر پر اُٹھا رکھی ہے ‘‘
٭ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلاٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل ‘‘ پر مصنوعی ذہانت (AI)سے تیار کردہ ایک تصویر شیئر کی جس میں دکھایا گیا کہ وہ دنیا (گلوب) سر پہ اُٹھائے ہوئے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ کوئی وضاحتی کیپشن نہیں لکھا۔ یعنی انھوں نے مطلب جاننے کی ذمہ داری ناظرین پر چھوڑدیا۔
صدر ٹرمپ کی‘‘دنیا سر پر اُٹھانے’’والی یہ تصویر دیکھ کر غالب کے دور کے شاعر آگاہ دہلوی کا مشہور شعر ذہن میں آیا کہ ؎
اس کی بیٹی نے اُٹھا رکھی ہے سر پر دنیا
یہ تو اچھا ہوا انگور کے بیٹا نہ ہوا
ہمارا خیال ہے کہ اب آگاہ دہلوی کواطلاع دے دینی چاہئیے کہ انگور کو بیٹا ہوگیا ہے۔
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
بیماری …!!
٭ ایک صاحب کو بھولنے کی بیماری تھی ایک دن وہ ڈاکٹر کے پاس گئے اور کہنے لگے ڈاکٹر صاحب مجھے بھولنے کی بیماری ہے جس کی وجہ سے مجھے بہت پریشانی اُٹھانی پڑتی ہے ۔
ڈاکٹر نے کہا : یہ بیماری تمہیں کب سے ہے ؟ وہ صاحب کہنے لگے کونسی بیماری …!!؟
نجم الدین جنیدی رضوان ۔ ٹولی چوکی
…………………………
روشن مستقبل …!!
٭ ایک اسکول میں پیرینٹس ٹیچرز میٹنگ ہورہی تھی اور ایک صاحب ایک خوبصورت ٹیچر کو مسلسل گھورے جارہے تھے ۔ بالآخر ٹیچر نے ان صاحب کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جھلاکر کہا: ’’اگر آپ اتنی محنت بچے پر کریں تو اس کے روشن مستقبل کی توقع کی جاسکتی ہے …!!‘‘۔
نجیب احمد نجیب۔حیدرآباد
…………………………
بڑے بڑے گدھوں کو …!!
٭ ایک طالب علم اسکول میں ایک گدھا لے کر آیا تو ٹیچر نے کہا : Oh My God تم گدھا کیوں لائے ہوں …!؟
طالب علم : آپ نے کہا تھا کہ میں نے بڑے بڑے گدھوں کو انسان بنادیا ہے ، میں نے سوچا اس بیچارے (گدھے ) کی زندگی بھی Set ہوجائے …!!
محمد مزمل سراجیؔ ۔ محبوب نگر
…………………………