ریاست کے سیاسی حلقوں میں ہلچل، جنوبی ہند پر بی جے پی کی نظر، عارف محمد خاں اور بعض دیگر کے نام بھی شامل
حیدرآباد۔/15 جون، ( سیاست نیوز) صدر جمہوریہ رامناتھ کووند کے جانشین کے لئے بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے میں مختلف ناموں پر غور کیا جارہا ہے۔ 2014 لوک سبھا عام انتخابات میں کامیابی کے ذریعہ نریندر مودی کی ہیٹ ٹرک کو یقینی بنانے کیلئے پارٹی کمزور طبقات اور مسلمانوں پر توجہ دینا چاہتی ہے۔ این ڈی اے کا صدارتی امیدوار وہی ہوگا جن کے ذریعہ پارٹی کو لوک سبھا انتخابات میں فائدہ ہو۔ باوثوق ذرائع کے مطابق بی جے پی نے صدارتی امیدوار کے طور پر جن دو ناموں پر غور کیا ہے ان میں گورنر تلنگانہ ڈاکٹر ٹی سوندرا راجن اور گورنر کیرالا عارف محمد خاں شامل ہیں۔ سوندرا راجن جن کا تعلق ٹاملناڈو سے ہے اور تلنگانہ کے گورنر مقرر کئے جانے سے قبل وہ بی جے پی کی سرگرم قائدرہ چکی ہیں۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ جنوبی ہند میں داخلہ کیلئے سوندرا راجن کی امیدواری مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ انہیں صدر جمہوریہ منتخب کئے جانے پر تلنگانہ، آندھرا پردیش، ٹاملناڈو اور کیرالا میں پارٹی کو ایس سی، ایس ٹی طبقات کی تائید حاصل ہوگی۔ بی جے پی کو اعلیٰ طبقات کے ساتھ ساتھ کمزور طبقات کی تائید کے حصول کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر سوندرا راجن کے نام پر غور کئے جانے کی اطلاعات نے تلنگانہ کی برسراقتدار ٹی آر ایس میں ہلچل پیدا کردی ہے۔ سوندرا راجن نے حالیہ عرصہ میں عوام سے راست ملاقات کے پروگراموں کے ذریعہ ٹی آر ایس حکومت کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے۔ جنوبی ہند میں پارٹی کے موقف کے علاوہ خاتون کی حیثیت سے ڈاکٹر سوندرا راجن صدر جمہوریہ کے عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے بی جے پی کیلئے خواتین کی تائید کا اہم ذریعہ بن سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدارتی امیدوار کیلئے دوسرا نام عارف محمد خاں کا زیر غور ہے جن کا تعلق اُتر پردیش سے ہے اور آئندہ لوک سبھا انتخابات میں اُتر پردیش کی تمام لوک سبھا نشستوں پر قبضہ کرنا بی جے پی کے منصوبہ میں شامل ہے۔ بی جے پی مسلمانوں سے قریب ہونا چاہتی ہے تاکہ تیسری مرتبہ تشکیل حکومت میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔ ذرائع کے مطابق صدارتی امیدواروں کے طور پر چند دیگر نام بھی زیر غور رہے جن میں مرکزی وزیر ارجن منڈا اور جوئیل اورام شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سابق اسپیکر لوک سبھا سمترا مہاجن اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے نام بھی بعض گوشوں کی جانب سے پیش کئے گئے۔ صدارتی الیکشن میں 776 ارکان لوک سبھا و راجیہ سبھا کے علاوہ 4120 ارکان اسمبلی رائے دہی میں حصہ لیں گے۔ تمام ووٹوں کی قدر 1098903 ہوگی۔ ارکان پارلیمنٹ کے ووٹ کی قدر 708 ہے جبکہ ریاستوں کے اعتبار سے ارکان اسمبلی کے ووٹ کی قدر مختلف ہے۔ اتر پردیش میں رکن اسمبلی کے ایک ووٹ کی قدر 208 ہے جو دیگر ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ بی جے پی کو اپنے امیدوار کی کامیابی کیلئے این ڈی اے سے باہر رہتے ہوئے تائید کرنے والی جماعتوں کی تائید ضرورت پڑے گی اسے یقین ہے کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور بیجو جنتا دل ( اوڈیشہ ) کی تائید حاصل ہوگی۔ جنتا دل یونائٹیڈ جو بہار میں بی جے پی کی حلیف ہے لیکن اس نے صدارتی الیکشن کے بارے میں اپنا موقف واضح نہیں کیا ہے۔ر