صدر دفتر ٹمریز میں میاں بیوی کا راج

   

حکومت سے منظورہ بجٹ خانگی افراد میں تقسیم کرنے کا منصوبہ
محمد مبشرالدین خرم
حیدرآباد۔19۔ستمبر ۔تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی انسٹیٹیوشن سوسائیٹی میں جاری بدعنوانیاں اب ہر زبان خاص و عام سے سنی جانے لگی ہیں اور کہا جار ہاہے اگر ٹمریز کی یہی چال بے ڈھنگی کا سلسلہ جاری رہے گا تو ایسی صور ت میں حکومت تلنگانہ کی جانب سے ٹمریز کو بند کرنے یا کسی اور رہائشی اسکول سوسائیٹی کے زیر انتظام کرنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔ ٹمریز میں جاری بدعنوانیوں میں محض بڑے پیمانے پر تغلب یا ٹنڈرس میں کمیشن کا حصول ہی نہیں ہے بلکہ منظم انداز میں اقلیتی بہبود کے لئے حکومت کی جانب سے مختص کیا جانے والا بجٹ خانگی افرا د میں تقسیم کرنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس منظم دھاندلی کو روکنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ ٹمریز کے صدر دفتر میں چند ماہ قبل تک محکمہ پولیس کے ایک بدعنوان اہلکار کی داداگری چلا کرتی تھی لیکن اب ایک محترمہ اپنی من مانی چلاتے ہوئے نہ صرف ملازمین کو ہراساں کررہی ہیں بلکہ بدعنوانیوں میں ملوث افراد کی نور نظر بنی ہوئی ہیں۔ تلنگانہ اقلیتی اقامتی انسٹیٹیوشنس سوسائیٹی کی جانب سے غیر تعلیم یافتہ شخص کو بی آر ایس دور حکومت میں اکیڈیمک ہیڈ کے طور پر تقرر کرتے ہوئے ایک لاکھ روپئے ماہانہ مشاہرہ دیا جا رہاتھا اور ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے بعد اس شخص نے ٹمریز کی ملازمت ترک کردی تھی کیونکہ ابتداء میں سمجھا جا رہاتھا کہ کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد گذشتہ حکومت کے دور میں ہوئی بدعنوانیوں کی تحقیقات کروائی جائیں گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا تو دوبارہ اسی شخص کو سیکریٹری ٹمریز نے آرٹیفیشل انٹلیجنس کے ماہر کے طور پر تقرر فراہم کرتے ہوئے دیڑھ لاکھ روپئے ماہانہ جاری کرنے کے احکامات دیئے ہیں۔ اسی طرح ٹمریز میں ویجلنس ٹیم کے نام پر ریاست بھر میں 25تا30 افراد کا تقرر کرتے ہوئے انہیں بدعنوانیوں کو روکنے کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے لیکن وہ خود اس قدر بدعنوانیو ںمیں ملوث ہیں کہ وہ کسی کے خلاف کاروائی کرنے کے اہل نہیں ہیں کیونکہ ٹمریز نے خانگی افراد کو ویجلنس ٹیم میں ذمہ داریاں حوالہ کی ہیں۔ذرائع کے مطابق ٹمریز کے صدر دفتر میں جو کہ ایک سرکاری ادارہ ہے اس پر مکمل طور پر خانگی افراد کا قبضہ ہوچکا ہے اور سوائے سیکریٹری کے کوئی سرکاری عہدیدار موجود نہیں ہے اور سیکریٹری ٹمریز کی ذمہ داری بھی سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود کے پاس ہے علاوہ ازیں وہ خود کمشنر محکمہ اقلیتی بہبود کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں ۔ماہر تعلیم اور مصنوعی ذہانت کی حیثیت سے جس شخص کو آؤٹ سورسنگ کی بنیاد پر تقرر فراہم کیاگیا ہے وہ ٹمریز کے ٹنڈرس ‘ اسٹیشنری کی خریدی کے علاوہ دیگر معاملات میں کمیشن کے اساس پر کام کرتے ہوئے اپنے عہدیداروں کو حصہ فراہم کرنے میں مصروف ہے ۔ ریاست بھر میں جہاں ٹمریز کے 204 اسکول موجود ہیں ان اسکولوں میں پانچویں جماعت تا جونیئر کالج تعلیم فراہم کی جاتی ہے ان اسکولوں کے اخراجات کا بڑا حصہ بدعنوانیوں کی نذر ہونے لگا ہے اور اس سلسلہ میں ویجلنس اینڈ انفورسمنٹ کی جانب سے ایک رپورٹ تیار کرتے ہوئے حکومت کو پیش کی جاچکی ہے لیکن اس کے باوجود اس پر کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔ بتایاجاتا ہے کہ صدر دفتر میں جو عملہ خدمات انجام دے رہا ہے ان پر کسی سرکاری عہدیدار کی نگرانی نہ ہونے کے سبب صدر دفتر ٹمریز میں خدمات انجام دینے والے ایک میاں بیوی (جوڑے) کی من مانی اور اجارہ داری چل رہی ہے اور وہ ادارہ میں تقررات کے سلسلہ میں بھاری رقومات کے حصول کے علاوہ تبادلوں کے لئے بھی بھاری رقومات حاصل کررہے ہیں اور جو ملازمین رقم ادا کرنے سے انکار کر رہے ہیں اور بدعنوانیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں انہیں میمو دیتے ہوئے ملازمت سے بیدخل کیا جانے لگا ہے۔