حکومت کو خدمات کی واپسی کیلئے مکتوب روانہ کردیں۔ اردو اکیڈیمی و اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اجلاس میں انچارج سکریٹری ڈائرکٹر کا ترش رویہ
حیدرآباد۔22جولائی (سیاست نیوز) صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ جناب سید عظمت اللہ حسینی کے اختلافات کے بعد اب صدرنشین تلنگانہ اردو اکیڈیمی جناب طاہر بن حمدان کے ساتھ ڈائرکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی کے اختلافات آشکار ہوچکے ہیں اور انچارج ڈائرکٹر تلنگانہ اردو اکیڈیمی فینانس کارپوریشن و اردو اکیڈیمی کے مشترکہ اجلاس سے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اگر صدرنشین اکیڈیمی کو ان کی خدمات پسند نہیں ہیں تو خدمات حکومت کو واپس کردیں ۔ تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی صدورنشین و عہدیداروں کا اجلاس ریاست میں کمپیوٹر سنٹرس کی خدمات کو بہتر بنانے منعقد کیاگیا تھا ۔ اجلاس میں انچارج ڈائرکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی جناب اسداللہ موجود نہیں تھے اور اجلاس میں انہیں طلب کیا گیا اور استفسار کیا گیا کہ انہیں 8یوم قبل پیشگی اطلاع کے بعد بھی اہم اجلاس میں شرکت سے کیوں گریز کررہے ہیں !اس کے جواب میں ڈائرکٹر سیکریٹری نے وضاحت کی بجائے صدرنشین اردو اکیڈیمی جناب طاہر بن حمدان کو کہہ دیا کہ اگر وہ نہیں چاہتے کہ اردو اکیڈیمی میں ان کی خدمات رہیں تو وہ حکومت کو مکتوب روانہ کرکے ان کی خدمات واپس لینے کی خواہش کریں۔ صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن جناب عبید اللہ کوتوال ‘ منیجنگ ڈائرکٹر و نائب صدرنشین کارپوریشن و دیگر عہدیداروں کی موجود گی میں چیف اکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ و انچارج ڈائرکٹر سیکریٹری اردو اکیڈیمی کے رویہ پر افسوس کا اظہار کیا جانے لگا ہے اور کہا جا رہاہے کہ 2 صدورنشین کی موجودگی میں عہدیدار کا اس طرح کا رویہ ناقابل برداشت ہے ۔ واضح رہے کہ چیف اکزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ کا جائزہ لینے کے بعد سے جناب اسداللہ ادارہ کے صدرنشین وقف بورڈ سید عظمت اللہ حسینی سے دوریاں اختیار کئے ہوئے ہیں اور دونوں میںرسہ کشی کے نتیجہ میں اکٹوبر 2024 کے بعد سے وقف بورڈ کا کوئی اجلاس نہیں ہوپایا ہے اور اب اردو اکیڈیمی مسائل میں اضافہ ہونے لگا ہے۔3