سالانہ 960 میٹرک ٹن اسٹیل کی پیداوار، 164 میٹرک ٹن کے ساتھ ہندوستان دوسرے نمبر پر
حیدرآباد ۔25 ۔ جون (سیاست نیوز) صنعتی ترقی اور انڈسٹریل انفراسٹرکچر کی ترقی کے معاملہ میں چین نے اپنی سبقت کو برقرار رکھا ہے۔ کسی بھی ملک میں صنعتی ترقی کا اندازہ وہاں کی اسٹیل کی پیداوار سے کیا جاتا ہے۔ صنعتوں کے قیام اور انفراسٹرکچر کی فراہمی میں اسٹیل کی پیداوار کا اہم رول ہے اور ماہرین نے اسے معاشی ترقی سے مربوط کیا ہے۔ دنیا میں اسٹیل پروڈکشن کے معاملہ میں ٹاپ 5 ممالک کا انتخاب کیا گیا جن میں چین سرفہرست اور ہندوستان دوسرے نمبر پر ہے۔ ٹاپ 5 ممالک میں اسٹیل کی سالانہ پیداوار کا تقابل کیا گیا تو چین کی پیداوار دیگر چار ممالک کی مجموعی پیداوار سے زیادہ ہے۔ سروے کے مطابق چین میں 960.82 ملین ٹن سالانہ اسٹیل کی پیداوار ہوتی ہے۔ ہندوستان اگرچہ 164.93 ملین ٹن پیداوار کے حساب سے دوسرے نمبر پر ہے لیکن دونوں ممالک کی پیداوار میں تقریباً 600 ملین ٹن کا فرق پایا جاتا ہے۔ امریکہ 82.04 ملین ٹن سالانہ پیداوار کے ذریعہ تیسرے نمبر پر ہے۔ جاپان میں 80.75 ملین ٹن جبکہ روس میں 67.90 ملین ٹن اسٹیل کی پیداوار درج کی گئی ہے۔ صنعتی ترقی اور عوام کے لئے کم خرچ پر دستیاب ٹکنالوجی کے فروغ میں چین نے ہمیشہ دیگر ممالک پر اپنی سبقت کو برقرار رکھا ہے۔ زرعی پیداوار کے علاوہ نئی ٹکنالوجی کے فروغ کے ذریعہ چین نے دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک نئی ٹکنالوجی ایجاد کرے ، اس کا متبادل چین میں فوری دستیاب ہوجاتا ہے ۔ عام طور پر بڑے ممالک کی توجہ دفاعی طاقت کے استحکام پر ہوتی ہے لیکن چین نے کوئی بھی شعبہ ایسا نہیں چھوڑا ہے جس میں ترقی نہ کی ہو۔ ہندوستان میں حالیہ برسوں میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کے نتیجہ میں صنعتی ترقی کے فروغ کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔ 1/k/m/b