دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس کی ملاقات کے ایجنڈے میں اس کو شامل کریں : ہریش راؤ
حیدرآباد ۔ 2 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز) : بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے تقسیم ریاست کے مسائل پر مشاورت کرنے کے لیے چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے چیف منسٹر تلنگانہ اے ریونت ریڈی کو تحریر کردہ مکتوب کا خیر مقدم کیا ہے اور چیف منسٹر تلنگانہ سے اپیل کی کہ بات چیت کے ایجنڈے میں پہلے ایجنڈے کے طور پر ضلع کھمم کے آندھرا پردیش میں ضم کردہ 7 منڈلس کو دوبارہ حاصل کرنے کو پہلی ترجیح دیں ۔ اس کے بعد دوسرے مسائل پر تبادلہ خیال کرنے کا مشورہ دیا ۔ تلنگانہ بھون میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کہا کہ پڑوسی ریاست کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو سیاسی طور پر طاقتور قائد ہیں ۔ مرکز کی بی جے پی حکومت پر ان کا مکمل کنٹرول ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت نے دو ماہ سے آسرا پنشن جاری نہیں کیا ہے ۔ آندھرا پردیش میں چندرا بابو نائیڈو نے پنشن تقسیم کردیا ہے ۔ ضلع کھمم میں ایک کسان نے خود کشی کرلی ہے ۔ انہوں نے اس کسان کے ارکان خاندان کو 25 لاکھ روپئے ایکس گریشیا دینے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ بی آر ایس کے دور حکومت میں پلے پرگتی پروگرامس کے لیے ہر ماہ 275 کروڑ اور سالانہ 3330 کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے ۔ صاف صفائی اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے یہ فنڈز خرچ کئے جاتے تھے ۔ کانگریس حکومت کے 7 ماہ مکمل ہوچکے ہیں ۔ مگر پلے پرگتی پروگرام کے لیے ایک روپیہ بھی جاری نہیں کیا گیا ہے ۔ ساتھ ہی میونسپلٹیز میں ترقیاتی پروگرامس کی انجام دہی کے لیے سالانہ 1700 کروڑ روپئے جاری کیا جانا تھا ۔ کانگریس حکومت نے ابھی تک کوئی فنڈز جاری نہیں کیا ہے ۔ اضلاع بالخصوص ایجنسی علاقوں میں وائرل فیور کی روک تھام کے لیے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں ۔ پلے پرگتی اور پٹناپرگتی پروگرامس کے لیے بی آر ایس کے 5 سالہ دور حکومت میں 20 ہزارکروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ کانگریس حکومت نے 20 پیسے بھی جاری نہیں کئے ۔۔ 2