نیویارک : بین الاقوامی مذہبی آزادیوں کے امریکی کمشن یو ایس سی آئی آر ایف نے ایران کے کم ازکم چار شہروں میں اسکولوں کی سینکروں طالبات پر زہریلے حملوں پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔کمشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک میں سرگرم انتہاپسند مذہی گروہ لڑکیوں اور خواتین کی تعلیم پر پابندی کے حامی ہیں۔نومبر سے ایران بھر میں طالبات کو زہر دیے جانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق مارچ میں ایک ہی دن میں کم ازکم 26 اسکول ان حملوں سے متاثر ہوئے۔ایرانی حکومت کے عہدے داروں نے ان واقعات کی خصوصی تحقیقات شروع کرتے ہوئے کہا ہے کہ زہر دیے جانے کے واقعات مجرمانہ اور منصوبہ بند کارروائی ہو سکتے ہے۔یو ایس سی آئی آر ایف کے مطابق ایران میں زہر دیے جانے کے واقعات ایک ایسے ماحول میں ہو رہے ہیں جہاں ایرانی حکام کو ہراساں کرنے، حملہ کرنے، جنسی زیادتی اور تشدد کرنے اور پرامن طریقہ سے اپنے مذہب یا عقیدے کی آزادی کے لیے پرامن طریقے سے آواز بلند کرنے والی خواتین کو پھانسی دینے کے معاملے میں استثنیٰ حاصل ہے۔