طالبان سے بات چیت کیلئے ہمیں کسی تیسرے ملک کی ضرورت نہیں: تھامس

   

افغانستان کی لڑکیاں پڑھائی میں بیحد ذہین، وائس آف امریکہ کو انٹرویو

واشنگٹن ؍ اسلام آباد : پاکستان امریکہ کا اہم شراکت دار ہے۔ اور ہم مل کر کام کرتے رہیں گے۔ ان خیالات کا اظہار افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندہ اور نائب معاون وزیر خارجہ تھامس ویسٹ نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کیا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً دو ہفتے قبل انہوں نے افغانستان میں مشترکہ مفادات کے حوالے سے گہری بات چیت کرتے ہوئے تقریباً ڈھائی دن پاکستان میں گزارے اور انہیں نہ صرف اسلام آباد میں سیکیورٹی اور سویلین عہدیداروں سے بات کرکے خوشی ہوئی بلکہ پشاور کا دورہ کرکے اور وہاں غیر معمولی طور پر ذہین افغان لڑکیوں کو دیکھ کر بھی خوشی ہوئی جو پاکستان میں پناہ گزینوں کے طورپر تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 40 سال تک افغان مہاجرین کی میزبانی کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس نے پناہ گزینوں کی مدد کی۔حال ہی میں صدر بائیڈن نے پاکستان کے نیوکلیئر اثاثوں کو بے ربط کہتے ہوئے پاکستان کو ایک خطرناک ملک قرار دیا تھا جس کی پاکستان نے تردید کی تھی۔اس سوال پر کہ امریکہ کی اس بارے میں تشویش کی بنیاد کیا ہے؟ تھامس ویسٹ نے کہا کہ ان کے پاس اس سوال کے بارے میں مزید کچھ کہنے کو نہیں ہے۔ایمن الظواہری پر امریکی حملے کے بارے میں ویسٹ نے کہا کہ، طالبان کا ایمن الظواہری کو پناہ دینا، دوحہ معاہدے کی کھلی خلاف ورزی تھی۔انہوں نے کہا،”میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ امریکی حکام اور طالبان کے نمائندوں نے دوحہ میں پہلی بار آمنے سامنے ملاقات کی۔ اس سے کوئی دو ہفتے پہلے، اور مجھے لگتا ہے کہ دونوں فریق ان مذاکرات کے لیے تعمیری رویہ لائے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم اعتماد کی بحالی کے راستے پر ہیں۔ لیکن، بلاشبہ، امریکہ کا افغانستان میں سب سے بڑا قومی مفاد یہ ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ یہ دوبارہ کبھی دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بنے گا، ان کی جو ہمارے لیے خطرہ ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں ہم طالبان کے ساتھ عملی طور پر بات چیت جاری رکھیں گے۔”انہوں نے مزید کہا، “جب بھی ہم طالبان کے ساتھ بات کرتے ہیں تو انسانی حقوق کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔ اور یہ میرا نظریہ ہے کہ اندرون اور بیرونِ ملک طالبان کا موقف اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ دس لاکھ سے زیادہ لڑکیوں کو سیکنڈری تعلیم کی اجازت نہیں دیتے جو ان کا بنیادی حق ہے یا خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔”طالبان سے اپنی بات چیت کی تفصیل بتاتے ہوئے افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے کا کہنا تھا کہ انہوں نے دہشت گردی پر بھی بڑی ت?فصیل سے بات کی۔ القاعدہ کے حوالے سے اپنے خدشات کے علاوہ داعش سے لڑنے کے لیے طالبان کی کوششوں پر بھی بات کی کہ داعش امریکہ اور تمام افغانوں کا مشترکہ دشمن ہے اور ہزارہ کے خلاف ہولناک حملے بند ہونے چاہئیں۔افغانستان میں اقتصادی استحکام کے بارے میں ویسٹ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے عالمی بینک کی سالانہ میٹنگز کے موقع پر بھی ملاقاتیں ہوئیں اور انہیں یہ کہتے ہوئے بہت خوشی ہو رہی ہے کہ ورلڈ بینک نے گزشتہ ایک سال کے دوران افغان عوام کے لیے بنیادی سہولتوں کی مد میں 1.5 ارب ڈالرز فراہم کرنے کا بڑا اقدام کیا ہے۔
ایک تازہ اندازے کے مطابق جب سے طالبان نے کابل پر قبضہ کیا ہے، پاکستان میں عسکریت پسندی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال سے اس وقت یہ شرح 51 فیصد ہے۔ کیا امریکہ نے افغانستان سے واپسی کے بعد پیچھے گڑ بڑ چھوڑ دی ہے؟