نیویارک : اقوام متحدہ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل امینہ محمد نے مسلم ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے خلاف کارروائیوں کو ختم کرنے اور طالبان کو تیرہویں صدی سے اکیسویں صدی میں لے جانے میں مدد کریں۔اقوام متحدہ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل امینہ محمد نے بتایا کہ افغانستان کے حالیہ دورے کے دوران انہوں نے طالبان حکام سے بات چیت میں افغان خواتین اور لڑکیوں کے خلاف اقدامات بند کرنے کے لیے ہر ممکن’’ذرائع‘‘ کا استعمال کیا۔نائجیریا کی سابق وزیر اور اقوام متحدہ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل امینہ محمد نے کل ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کے ایک وفد کے ساتھ افغانستان کا دورہ کیا تھا اور طالبان کے وزیر خارجہ اور نائب وزیر اعظم سمیت چار وزاء کے ساتھ ایک ہی موضوع پر بات کی۔امینہ محمد نے بتایا کہ طالبان عہدیداروں نے یہ باور کرانے کی کوشش کی انہوں نے خواتین کو تحفظ فراہم کرنے والا ماحول پیدا کرنے جیسے اقدامات کیے لیکن انہیں تسلیم نہیں کیا گیا۔امینہ محمد کا کہنا تھا، میں کہوں گی کہ ان(طالبان) کے تحفظ کی تعریف ہمارے نزدیک خواتین پر ظلم کے مترادف ہے۔اقوام متحدہ کی ڈپٹی سکریٹری جنرل کا کہنا تھا کہ ایک طالبان رہنما نے کہا کہ ان کے نزدیک ہم (خواتین) سے براہ راست بات کرنا بھی حرام ہے اور بات چیت کے دوران انہوں نے ہماری طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔امینہ محمد نے بتایا کہ طالبان نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ وقت آنے پر خواتین اور لڑکیوں کے حقوق واپس لوٹا دیے جائیں گے۔ جب اقوام متحدہ نے اس کے لیے کوئی وقت مقرر کرنے کے لیے دباو ڈالا تو طالبان رہنماوں کا کہنا تھا کہ ایسا ’’جلد‘‘ ہوگا۔امینہ محمد نے بتایا کہ اقوام متحدہ اور تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) کی جانب سے مارچ کے وسط میں ‘مسلم دنیا میں خواتین’ کے موضوع پر ایک بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد کی تجویز زیر غور ہے۔