کولکتہ : مغربی بنگال میں ایک 17سالہ لڑکی نے اسمارٹ فون خریدنے کیلئے اپنا خون بیچنے کی کوشش کی ۔ وہ جنوبی ویناج پور ضلع میں اپنے گھر سے 30 کلومیٹر کا سفر کر کے بلورگھاٹ کے سرکاری ہاسپٹل پہنچی جہاں اسن ے اپنا خون بیچنے کی پیشکش کی ۔ پوچھ گچھ پر لڑکی نے بہت سی لغو وجوہات بتادیں ۔ یہاں تک کہہ دیا کہ اس کے والدین فوت ہوچکے ہیں لیکن مزید سوال پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس نے 9000روپئے کا اسمارٹ فون آرڈر کیا تھا اور اس کی ادائیگی کیلئے رقم کی ضرورت تھی اس لئے وہ خون بیچنے آئی تھی ۔ہاسپٹل انتظامیہ نے اسے سمجھایا کہ اس طرح خون نہیں بیچا جاسکتا ۔