80 فیصد مسلمان پسماندہ ، بی جے پی کو مخالف تحفظات پروپگنڈہ ترک کرنے کا مشورہ
حیدرآباد ۔3۔فروری (سیاست نیوز) حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے کہا کہ ریاست میں کئے گئے طبقاتی سروے کے نتیجہ میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات کے حق میں مضبوط موقف حاصل ہوا ہے اور مسلم تحفظات کا قانونی موقف مستحکم ہوگا۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے طبقاتی سروے کو سماجی انصاف کی فراہمی کی راہ میں کانگریس حکومت کا اہم کارنامہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ سروے کی تفصیلات کو فلاحی اسکیمات پر عمل آوری میں استعمال کیا جائے گا اور کمزور طبقات کو اسکیمات میں مناسب حصہ داری حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ راہول گاندھی کے ویژن کی تکمیل کرتے ہوئے ریونت ریڈی حکومت نے اہم انتخابی وعدہ کی تکمیل کی ہے۔ طبقاتی سروے میں مسلمانوں نے بی سی طبقہ کی آبادی 10.08 فیصد درج کی گئی ہے جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں 4 فیصد تحفظات کے سپریم کورٹ کے مقدمہ کو تقویت حاصل ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ 1994 میں اس وقت کے چیف منسٹر کے وجئے بھاسکر ریڈی حکومت نے مسلم تحفظات کی تجویز پیش کی تھی لیکن 2004 میں ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے عمل آوری کی۔ تحفظات کے نتیجہ میں تقریباً 20 لاکھ غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوا ہے۔ طبقاتی سروے رپورٹ سے مسلمانوں کو تحفظات کی ضرورت کو مزید استحکام حاصل ہوا ہے۔ محمد علی شبیر نے تلنگانہ اور آندھراپردیش میں 4 فیصد مسلم تحفظات کی وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے مخالفت پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ مودی اور امیت شاہ مسلم تحفظات کے خلاف مسلسل بیان بازی کرتے ہوئے اسے مذہبی تحفظات قرار دے رہے ہیں جبکہ مسلمانوں کی سماجی اور معاشی پسماندگی کی بنیاد پر تحفظات فراہم کئے گئے ۔ نریندر مودی اور امیت شاہ نے تحفظات کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ طبقاتی سروے سے ثابت ہوچکا ہے کہ تلنگانہ میں 80 فیصد سے زائد مسلمان پسماندہ ہیں اور وہ تحفظات کے مستحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طبقاتی سروے رپورٹ کے بعد بی جے پی کو مسلمانوں اور تحفظات کے خلاف مہم بند کرنی چاہئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کے سی آر دور حکومت میں کئے گئے سروے رپورٹ کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے۔ سروے کی تکمیل کے باوجود حکومت نے تفصیلات جاری نہیں کیں تاکہ پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی منظر عام پر نہ آئیں۔ انہوں نے کہا کہ 50 دن میں مکمل شفافیت کے ساتھ طبقاتی سروے کی تکمیل کرتے ہوئے تمام طبقات کی حقیقی آبادی کا اظہار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کے سی آر کو مشورہ دیا کہ وہ اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں شرکت کرتے ہوئے جامع سروے کے بارے میں وضاحت کریں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی مبارکباد کے مستحق ہیں جنہوں نے اقتدار کے پہلے سال حکومت کے اہم وعدے کی تکمیل کی۔ 1