طلبہ پر پولیس کارروائی کیخلاف احتجاج‘راہول‘پرینکا ، اکھلیش اوردیگر زیر حراست

,

   

وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنا،طلبہ پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے:راہول گاندھی، وزیر تعلیم سے استعفیٰ، پارلیمنٹ میں بحث سمیت پانچ مطالبات

نئی دہلی ۔21؍جولائی ( ایجنسیز ) کاکروچ پارٹی کے پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران کل دہلی میں ہنگامہ آرائی اور طلباء پر پولیس کارروائی کیخلاف آج کانگریس نے احتجاج منظم کیا۔کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس معاملے پر جوابدہی قبول کرنی چاہیے۔ راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھرگے اور کانگریس کے متعدد دیگر قائدین کو وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب دھرنے کے دوران پولیس نے حراست میں لے لیا ۔ کانگریس نے اس کارروائی کو غیر جمہوری قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ طلبہ کے حقوق کے معاملے پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور احتجاج جاری رکھے گی۔مرکزی وزیر جتیندر سنگھ اور مرکزی داخلہ سکریٹری گووند موہن احتجاجی مقام پر پہنچے اور راہول گاندھی و ملکارجن کھرگے سے بات کی۔ اس دوران احتجاجی مظاہرین استعفیٰ دو کے نعرے لگاتے رہے۔ حکومت نے مظاہرین سے پْرامن طریقے سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی تاہم کانگریس اپنے مطالبات پر قائم رہی۔راہول گاندھی نے کہا کہ طلبہ پر حملہ ہر ہندوستانی خاندان پر حملہ ہے اور طلبہ کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ راہول گاندھی کے مطابق وزیراعظم مودی اس معاملے میں جوابدہی سے نہیں بچ سکتے۔ انہوں نے انصاف کے حامی تمام شہریوں سے احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی ہے۔کانگریس نے وزیراعظم کی رہائش گاہ کے قریب جاری دھرنے کے دوران اپنے پانچ اہم مطالبات پیش کیے ہیں۔ پارٹی نے مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے، مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیان دینے، اس معاملے پر تفصیلی بحث کرانے، طلبہ کے مسائل کو سنجیدگی سے سنے جانے اور احتجاج کے دوران ہونے والے مبینہ تشدد کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کانگریس نے اپنے سرکاری بیان میں وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ اور مرکزی وزیر تعلیم سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ پر مبینہ لاٹھی چارج اور پولیس کارروائی کے ذمہ داروں کو اپنے عہدوں پر برقرار رہنے کا کوئی اخلاقی جواز حاصل نہیں۔ کانگریس نے اس واقعہ کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا ہے۔پولیس نے احتجاج کے دوران لوک کلیان مارگ پر موجود متعدد کانگریسی کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی سمیت کئی رہنماؤں نے پولیس کارروائی پر سخت اعتراض کیا۔ کانگریس کا الزام ہے کہ حکومت طلبہ اور اپوزیشن کی آواز دبانے کی کوشش کر رہی ہے اور جمہوری احتجاج کو طاقت کے ذریعے روکنا چاہتی ہے۔راہول گاندھی، پرینکا گاندھی، ملکارجن کھرگے اور دیگر کانگریسی رہنما لوک کلیان مارگ کے قریب دھرنے پر بیٹھ گئے۔ کانگریس قائدین نے حکومت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے طلبہ کے ساتھ مبینہ زیادتیوں پر جوابدہی کا مطالبہ کیا۔ کانگریس نے کہا کہ وہ نوجوانوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے احتجاج کر رہی ہے ۔کانگریس نے پارٹی صدر ملکارجن کھرگے کی رہائش گاہ سے وزیراعظم نریندر مودی کی رہائش گاہ کی جانب احتجاجی مارچ کیا۔ مارچ کی قیادت راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی واڈرا نے کی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ طلبہ پر مبینہ پولیس کارروائی کے خلاف یہ احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ اقتدار ہمیشہ کیلئے نہیں رہتا ، جوابدہی ضرورطئے کی جائے گی ۔ حراست کے دوران راہول گاندھی کی ناک زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے ۔

طلبہ کیخلاف پولیس کی کارروائی شرمناک‘ پرینکا گاندھی کی شدید تنقید
نئی دہلی ۔21؍جولائی ( ایجنسیز )کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی نے دہلی میں احتجاجی مظاہرے کے دوران پولیس کی کارروائی کو انتہائی شرمناک قرار دیتے ہوئے اس کارروائی پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کسی سیاسی مقصد کے لیے نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے حوالے سے سڑکوں پر اترے ہیں۔ حکومت کو طاقت کا استعمال کرنے کے بجائے ان کے مسائل سن کر ان کا حل نکالنا چاہیے۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ مسابقتی امتحانات کی تیاری کرنے والے لاکھوں طلبہ اور ان کے خاندان طویل عرصے سے مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ کئی والدین بچوں کی پڑھائی اور کوچنگ کیلئے قرض تک لیتے ہیں لیکن امتحانی نظام میں بے ضابطگیوں اور مبینہ پیپر لیک جیسے واقعات سے ان کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سیمطالبہ کیا کہ وہ خود طلبہ سے ملاقات کریں اور ان کی بات سنیں۔کانگریس کی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ طلبہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے ہیں کیونکہ ان کا ماننا ہے کہ امتحانی نظام میں مسلسل سامنے آنے والی خامیوں کی ذمہ داری متعلقہ وزارت کی ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ پہلے بڑی انتظامی ناکامیوں پر وزراء￿ اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیتے تھے لیکن اب ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ انہوں نے تعلیمی نظام میں وسیع تر اصلاحات کا بھی مطالبہ کیا۔پرینکا گاندھی نے الزام عائد کیا کہ ان کی پارٹی طویل عرصے سے امتحانی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتی آ رہی ہے۔ انہوں نے اتر پردیش کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ پیپر لیک کے واقعات میں صرف نچلے درجے کے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی جبکہ بڑے ذمہ دار لوگوں کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا گیا۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ ایسے واقعات بار بار دہرائے جا رہے ہیں۔پرینکا گاندھی نے کہا کہ ملک کا نوجوان آج اپنے مستقبل کو لے کر مایوس اور مشتعل ہے۔ محنت کرنے کے باوجود اگر امتحانی نظام منصفانہ نہیں ہوگا تو طلبہ کا مستقبل محفوظ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت ’نوجوان مخالف، غریب مخالف اور کسان مخالف‘ پالیسیاں اپنا رہی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے حکومت سے طلبہ کی آواز سننے، ذمہ داری طے کرنے اور تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے کیلئے مؤثر اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔