طلبہ کا آپریشن شوروغل شدت اختیار کرگیا

   

پریاگ راج ۔ یہاں اتر پردیش پبلک سروس کمیشن کے باہر طلباء کی طرف سے ایک عجیب و غریب احتجاج دیکھا جا رہا ہے جو ایک شفٹ ایک امتحان پر چار دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ کمیشن کے چیئرمین کی خاموشی کے خلاف مجبور طلبہ نے آپریشن شورغل شروع کر دیا ہے جس میں مختلف طریقوں سے ڈھول پیٹ کر، کہیں پلاسٹک کی بوتلیں پیٹ کر اور کہیں ٹین شیٹ مارکرکمیشن کے چیئرمین کو جگایا جارہا ہے۔ کہا جارہا کہ طلباء کے مطالبات سے غافل نہ ہوں۔ طلبہ نے کہا ہے کہ کمیشن کے چیئرمین کو نیند سے جگانے کے لیے آپریشن شورغل کیا جا رہا ہے۔ طلباء جو چار دنوں سے پبلک سروس کمیشن اتر پردیش کے دفتر کے باہر احتجاج اور مظاہرہ کر رہے ہیں، اپنی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف طریقے اپنا رہے ہیں۔ خواتین امیدواروں نے دفترکے باہر پانی کی خالی بوتلیں سڑک پر پھینک کر شور مچایا۔ خواتین امیدواروں نے کہا ہے کہ اس کے پیچھے بھی ایک مشن اور وژن ہے۔ طلبہ نے کمیشن کے دفتر کے باہر ڈھول بجا کر اپنی آوازکمیشن کے چیئرمین کے کانوں تک پہنچانے کے لیے کئی گروپ بنا لیے ہیں۔