نئی دہلی، یکم اگست (یو این آئی) کانگریس کے سابق صدر و لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہول گاندھی نے کہا ہے کہ ملک کے طلبہ کو وزیراعظم کی معافی نہیں، بلکہ ان سے معافی نامہ چاہیے کیونکہ پیپر لیک اور امتحانات منسوخ ہونے سے ان کا مستقبل برباد ہوا ہے ۔ مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ایکس پر پوسٹ میں کہا کہ کسی بھی والدین کیلئے اپنے بچے کو کھونے کا دکھ سب سے بڑا ہوتا ہے ۔ ہر نوجوان کی موت کے پیچھے ایک ایسا خاندان ہے جس کا درد کبھی ختم نہیں ہوگا اور اس کے ساتھ ہی ملک کے بوسیدہ تعلیمی نظام پر بھی سنگین سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک، امتحانات منسوخ ہونے اور برسوں کی محنت ایک جھٹکے میں برباد ہونے کے باوجود طلبہ سے ایمانداری کی امید کی جاتی ہے ، جبکہ نظام خود ایماندار نہیں ہے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نریندر مودی طلبہ کو ‘معاف کرنے ‘ کی بات کر رہے ہیں، جبکہ انہوں نے نہ تو کسی سوگوار خاندان سے ملاقات کی اور نہ ہی کسی ایسے طالب علم سے ملے جس کا مستقبل پیپر لیک کی وجہ سے متاثر ہوا ہے ۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ ہندوستان کے طلبہ کو وزیراعظم کی معافی کی ضرورت نہیں ہے ، بلکہ وزیراعظم کو ان سے معافی مانگنی چاہیے ۔
اروناچل کانگریس نے راہول گاندھی سے پارلیمنٹ میں چار اہم مسائل اٹھانے کی اپیل کی
ایٹانگر، یکم اگست (یواین آئی) اروناچل پردیش کانگریس کمیٹی (اے پی سی سی) نے ہفتہ کے روز لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہول گاندھی سے اپیل کی ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اروناچل پردیش سے متعلق چار اہم مسائل کو بھرپور انداز میں اٹھائیں۔ ان مسائل میں آرٹیکل 371(ایچ) کو مزید مضبوط بنانا، سیانگ اپر ملٹی پرپز پروجیکٹ (ایس یو ایم پی) کی مخالفت، چین کی جانب سے سرحد میں مبینہ دراندازی کے معاملات کو اجاگر کرنا، اور پرانی پنشن اسکیم کی بحالی شامل ہیں۔اے پی سی سی کے صدر بوسیرام سیرام نے نئی دہلی میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ “سنگٹھن سرجن ابھیان” کے جائزہ اجلاس کے دوران کانگریس قیادت کو ایک یادداشت پیش کرتے ہوئے یہ اپیل کی۔
میمورنڈم میں اے پی سی سی نے مرکز اور ریاست میں برسراقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومتوں پر الزام عائد کیا کہ وہ اروناچل پردیش کے آئینی، اقتصادی اور علاقائی مفادات کے تحفظ میں ناکام رہی ہیں۔بوسیرام سیرام نے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام معاملات کو پارلیمنٹ میں بھرپور انداز میں اٹھائیں، کیونکہ یہ اروناچل پردیش کے عوام کی تشویشات اور امنگوں کی عکاسی کرتے ہیں۔