عالمی بحران کے درمیان برکس اتحاد کا مطالبہ، دہشت گردی پر اظہارِ تشویش

   

غزہ کا تنازعہ سنگین انسانی بحران، مغربی ایشیا کی صورتحال پر ہندوستان کو گہری تشویش، جے شنکر کا خطاب

نئی دہلی 14 مئی (یو این آئی) ہندوستان نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناؤ، اقتصادی عدم استحکام اور کمزور ہوتے کثیر جہتی ادارے عالمی نظام کو مزید نازک بنا رہے ہیں اور برکس ممالک کو استحکام اور عالمی طرزِ حکمرانی میں اصلاحات کیلئے متحد ہو کر قدم اٹھانے چاہئیں۔ وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے جمعرات کو یہاں منعقدہ برکس ممالک کے وزرائے خارجہ کے میٹنگ میں بین الاقوامی سلامتی، اقتصادی عدم تحفظ اور ادارہ جاتی اصلاحات پر مرکوز خطاب میں کہا کہ دنیا غیر معمولی جغرافیائی سیاسی اور اقتصادی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہی ہے ۔ اس کے پیچھے مسلح تصادم، موسمیاتی آفات اور کووڈ وبا کے طویل مدتی اثرات اہم وجوہات ہیں۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ یہ بحران الگ الگ واقعات نہیں ہیں بلکہ عالمی چیلنجوں کا ایک ایسا سنگم ہیں جو بین الاقوامی نظام کی صلاحیت کا امتحان لے رہے ہیں اور جن کا سب سے زیادہ اثر ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “استحکام، پائیدار ترقی اور خوشحالی کو فروغ دینے کیلئے اجتماعی کارروائی اور پختہ عزم ضروری ہے ۔” انہوں نے زور دے کر کہا کہ برکس ممالک کو صرف غور و خوض تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ “موثر اور مربوط حل” تیار کرنے چاہئیں۔ ڈاکٹر جے شنکر نے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مقاصد اور اصولوں کے تئیں ہندوستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد رہنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اور سفارت کاری ہی تنازعات کے حل کے پائیدار ذرائع ہیں۔ انہوں نے مغربی ایشیا کی صورتحال پر خصوصی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل کشیدگی سمندری سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کیلئے خطرہ بن رہی ہے ۔ ہندوستان نے آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر جیسے اہم سمندری راستوں میں بلا تعطل نقل و حمل کو عالمی اقتصادی استحکام کیلئے ضروری قرار دیا۔ وزیرِ خارجہ نے غزہ کے تنازع کو “سنگین انسانی بحران” قرار دیتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا روک ٹوک رسائی اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر طویل مدتی سیاسی حل کی سمت میں کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے لبنان، شام، سوڈان، یمن اور لیبیا کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان بحرانوں کے حل کیلئے مسلسل سفارتی کوششیں اور بین الاقوامی ہم آہنگی ضروری ہے ۔ ڈاکٹر جے شنکر نے کہا کہ “استحکام منتخب نہیں ہو سکتا اور امن ٹکڑوں میں قائم نہیں کیا جا سکتا۔” اس کے ساتھ ہی انہوں نے تنازعات کے دوران بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، شہریوں کے تحفظ اور عوامی بنیادی ڈھانچے کو نشانہ نہ بنانے کی اپیل کی۔ انہوں نے ایسی یکطرفہ پابندیوں اور دباؤ ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کی جو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے مطابق نہیں ہیں۔
ہندوستان نے کہا کہ ایسے اقدامات کا سب سے زیادہ منفی اثر ترقی پذیر ممالک پر پڑتا ہے اور وہ سفارت کاری کا متبادل نہیں ہو سکتے ۔ وزیرِ خارجہ نے گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں بڑھتی ہوئی عدم مساوات اور ترقی کی سست رفتار پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ہندوستان نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک بڑھتے ہوئے اقتصادی عدم تحفظ، مہنگائی اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے درمیان ترقی اور استحکام کے درمیان توازن برقرار رکھنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سلامتی کے مسئلے پر انہوں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی پرانی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کی کسی بھی شکل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہندوستان نے سرحد پار دہشت گردی کو بین الاقوامی معیارات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ” قطعی برداشت نہ کرنے ” کی پالیسی پر زور دیا۔