مختلف شعبہ جات میں مریضوں سے ملاقات، حسیناؤں میں ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹوڈنٹس شامل، ڈاکٹر ناگیشور ریڈی نے استقبال کیا
حیدرآباد 16 مئی (سیاست نیوز) حیدرآباد میں 72 ویں مس ورلڈ مقابلے میں شریک حسیناؤں نے آج تلنگانہ کے میڈیکل ٹورازم پروگرام کے تحت ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیسٹرو انٹرولوجی گچی باؤلی کا دورہ کیا۔ ساؤتھ افریقہ کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی 25 حسیناؤں نے دیگر بیرونی مندوبین کے ساتھ ہاسپٹل کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کیا اور مریضوں کے علاج کے لئے دستیاب سہولتوں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ ترکی، ویلز، بوسنیا، پرتوریکو، بیلجیم، گوتیمالا، لبنان، ملیشیا، پولینڈ، فرانس، ناردن آئرلینڈ، گیانا، مالٹا اور دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والی حسیناؤں کے ساتھ موجود مندوبین میں بعض ڈاکٹرس بھی شامل ہیں۔ ایشین انسٹی ٹیوٹ آف گیاسٹرو انٹرولوجی پہونچنے پر حسیناؤں کا سرخ قالین استقبال کیا گیا۔ تلنگانہ کی روایت کے مطابق حسیناؤں کا ہاسپٹل کے اسٹاف نے استقبال کیا۔ ہاسپٹل میں حسیناؤں کے قدآور کٹ آؤٹس لگائے گئے تھے اور حسیناؤں نے کٹ آؤٹس پر آٹو گراف درج کرائے اور اپنی تصویر کھنچوائی۔ ڈاکٹر ڈی ناگیشور ریڈی چیرمین اے آئی جی ہاسپٹل نے ہاسپٹل کی کارکردگی اور علاج کی سہولتوں کے بارے میں واقف کرایا۔ حسیناؤں کو دو گروپس میں تقسیم کرتے ہوئے علیحدہ گوشوں کے معائنے کی اجازت دی گئی۔ بیرونی مندوبین نے مختلف وارڈس کے علاوہ ریسرچ سنٹر، اسکل لیاب اور شعبہ اطفال کا دورہ کرتے ہوئے مریضوں سے بات چیت کی۔ ڈاکٹر ناگیشور ریڈی، ڈاکٹر سجنا پریا، ڈاکٹر جی وی راؤ اور ڈاکٹر لکشمی نے رہنمائی کی۔ ڈاکٹر ناگیشور ریڈی نے حسیناؤں کو تہنیت پیش کی اور ہیلت کیر کے مستقبل پر مخاطب کیا۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر علاج کی سہولتوں میں بہتری، کینسر کے علاج کی سہولتوں اور خواتین کو فراہم کی جانے والی طبی خدمات کے بارے میں پریزنٹیشن دیا گیا۔ سکریٹری محکمہ صحت ڈاکٹر کرسٹینا چنگٹو نے حیدرآباد میں عالمی طرز کی علاج کی سہولتوں سے واقف کرایا اور کہاکہ حیدرآباد میڈیکل ٹورازم کے عالمی مرکز کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہے۔ ڈاکٹر ناگیشور ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ میں عالمی معیار کی انفراسٹرکچر سہولتوں کے علاوہ ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے سرکاری اور کارپوریٹ ہاسپٹلس کو علاج کی سہولتوں سے آراستہ کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر ناگیشور ریڈی نے کہاکہ مقابلہ حسن میں شرکت کے لئے آنے والی حسیناؤں اور مندوبین کا استقبال ہاسپٹل کے لئے باعث فخر ہے۔ حسیناؤں اور مندوبین میں کئی ڈاکٹرس اور میڈیکل اسٹوڈنٹس شامل ہیں لہذا اُنھوں نے علاج کی سہولتوں کے بارے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ حکام نے بتایا کہ حیدرآباد میں علاج کے لئے آنے والے بین الاقوامی مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ 2014 ء میں یہ تعداد 75 ہزار تھی جو 2024 ء میں بڑھ کر 1.55 لاکھ ہوچکی ہے۔ گزشتہ سال ملک کی دیگر ریاستوں سے تعلق رکھنے والے 8.82 کروڑ مریضوں نے تلنگانہ کے سرکاری اور خانگی ہاسپٹلس میں اپنا علاج کرایا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی قیادت میں حیدرآباد کو عالمی سطح پر میڈیکل ٹورازم ہب میں تبدیل کرنے کے لئے مساعی کی گئی ہے۔ حسیناؤں کے لئے یہ اپنی نوعیت کا منفرد پروگرام تھا اور وہ علاج کی سہولتوں اور مریضوں کی دیکھ بھال سے کافی متاثر ہوئے۔1