معاشرے کے اس بگاڑ کا ذمہ دار کون ؟
اسلامی تعلیمات سے واقف ‘ نا واقف سبھی دوڑ کا حصہ ۔ سیاسی قائدین میں توہم پرستی عروج پر
حیدرآباد۔6۔جنوری(سیاست نیوز) نجومی‘ کاہن ‘ عامل و جادوگر کے پاس جانا اور ان کی باتوں کو قبول کرنا ایمان کو ضائع کرنے کے مترادف ہے ۔ شریعت مطہرہ نے متعدد مقامات پر ایسا کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے ان حرکات سے باز رہنے کی تاکید کی لیکن حالیہ عرصہ میں امت مسلمہ کے درمیان یہ برائی اور ایمان کو غارت کرنے والا عمل تیزی سے پھیلتا جا رہاہے۔ چند برس قبل تک بھی ایمان کو تباہ کرنے والی اس برائی کے سلسلہ میں یہ کہا جاتا تھا کہ عامل ‘ جادوگر‘ کاہن اور نجومیوں کے پاس جاہل اور دین سے ناواقف لوگ جایا کرتے تھے لیکن حالیہ عرصہ میں یہ دیکھا جانے لگا ہے کہ تعلیم یافتہ اور سرکردہ افراد بشمول سیاستدانوں نے اپنے مستقبل کو بہتر بنانے ایمان کو خطرہ میں ڈالنا شروع کردیا ہے اور جب وہ اپنے اقتدار اور مرتبہ کیلئے ان لوگوں کا رخ کرلیتے ہیں تو ان میں اپنی قوم و ملت کے متعلق کوئی ہمدردی ہی باقی نہیں رہ جاتی کیونکہ انہیں اس بات کا یقین باطل ہوجاتا ہے کہ انہیں قوم کی ہمدردی یا دعاؤوں کے نتیجہ میں یہ مقام حاصل نہیں ملا بلکہ کسی مخصوص شخص جسے وہ عامل‘ نجومی یا کاہن تصور کرتے ہیں اس کے عمل سے یہ مقام ملا ہے۔ غیر مسلم سیاستدانوں کا مذہبی پیشواؤں اور نجومیوں سے رجوع کرنا نئی بات نہیں ہے بلکہ وہ اپنے مذہبی پیشوا یا نجومی پر ایمان و اعتقاد رکھتے ہیں اور ان کے مذہبی پیشوا ہی نہیں بلکہ وہ بعض مسلم عاملین و کاہنوں سے بھی پوری عقیدت سے رجوع ہو کر اس فرد کی ذات سے فائدہ حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں ۔ تلنگانہ حکومت کی جانب سے تلنگانہ کی از سر نو تعمیر کیلئے واستو کے ماہر کے سرکاری طور پر تقرر اور چیف منسٹر کی ان کے مذہبی پیشواؤں کے تئیں عقیدت کے بعد کئی سیاسی قائدین کھل کر اب اپنے مذہبی پیشواؤں اور کاہنوں کے پاس جانے لگے ہیں اور ان کے مشورہ کے مطابق کام کر رہے ہیں ۔ غیر مسلم سیاسی قائدین کا کاہنوں کے چکر کاٹنا اور ان کے کہنے کے مطابق اپنی مصروفیات اور واستو و مہورت کے اعتبار سے کام انجام دینا کوئی نئی بات نہیں تھی لیکن اب یہ برائی مسلم سیاسی قائدین و عہدیداروں میں بھی نظر آنے لگی ہے اور وہ ایسے افراد کے پاس نظر آنے لگے ہیں اور ایسے لوگ ان کی تقاریب میں نظر آرہے ہیں جو کہ مستقبل کا حال بتانے اور نجومی سمجھے جاتے ہیں۔ روحانی علاج کے نام پر غریب شہریوں کو ٹھگنے والوں کی تعداد میں اضافہ کے دوران جب سیاسی سرکردہ اور رتبہ کے اعتبار سے اعلیٰ عہدیدار خود نجومیوں‘ کاہنوں اور جادگروں کے چکر کاٹنے لگ جائیں تو اسکے عام شہریوں پر کیا اثرات ہونگے اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ’ جو شخص کاہن کے پاس آیا اور اس کی بات کی تصدیق کی اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ شریعت کا انکار کیا۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا کہ’ جو شخص کسی غیب کی خبریں سنانے والے کے پاس آئے اور کسی چیز کے بارے میں پوچھے تو چالیس راتوں تک اس شخص کی نماز قبول نہیں ہوتی‘۔ ایک اور حدیث مبارکہ میں یہاں تک ارشاد فرمایا گیا کہ ’ جو شخص کاہن یا نجومی کے پاس گیا اور اس سے سوال کیا اور اس کی کہی بات پر یقین کیا اس نے اللہ کے رسولﷺ پر جو کچھ ناز ل ہوا اس کا انکار کیا‘۔ اتنی سخت وعیدوں کے باوجود اگر ملت اسلامیہ کے ذمہ دار اور سرکردہ قائدین ہی اس کے مرتکب ہوں تو ملت اسلامیہ کی حالت کیا ہوگی اور جو طبقہ دین سے دور ہے وہ ان اعمال کو مذہب کا ہی حصہ تصور کرتے ہوئے انجام دینے لگ جائیگا ۔ اسی لئے اس طرح کی حرکات سے اجتناب ملت اسلامیہ کو اس برائی سے محفوظ رکھنے میں معاون ثابت ہوگا۔م