عتیق احمد کے بیٹوں سمیت کئی ارکان خاندان حراست میں

   

لکھنؤ:اْمیش پال قتل معاملہ کے بعد پولیس نے عتیق احمدکے بیٹوں سمیت کئی افراد خاندان کو حراست میں لے لیا ہے۔ ان سے لگاتار پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ حالانکہ، عتیق کے قریبی رشتہ داروں کا ہر سوال کا صرف یہی جواب ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتے۔ ان کے موبائل کالس کی تفصلات کی بنیاد پر لگاتار جانچ کی جارہی ہے۔ جو بھی ان کے رابطے میں تھے، ان سے سوالات کیے جارہے ہیں۔ اْمیش پال کے قتل والی رات ہی پولیس نے عتیق کے دو بیٹوں کو حراست میں لیا تھا۔انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھ کر پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ اس کے بعد پولیس نے اشرف کی بیوی زینب اور اس کی بیٹی کو بھی پکڑ لیا ہے۔ عتیق کی بہن عائشہ نوری کو بھی پولیس حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ سبھی لوگوں کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔
عتیق کے بیٹوں سے لگاتار اسد اور اس کے دوستوں کے بارے میں پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔ اس کے اسکول میں پڑھنے والے کچھ دوستوں کو بھی پکڑا گیا ہے۔ان سے اسد کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور دیگر چیزوں کے بارے میں معلومات لی گئیں۔ زینب نے آج بھی کہا کہ وہ نہ تو شائستہ سے رابطے میں ہے اور نہ ہی اسد سے۔ اس کا کہنا ہے کہ اس نے کافی عرصہ سے شائستہ اور اسد سے بات بھی نہیں کی۔ عتیق کی بہن عائشہ نوری سے بھی پوچھ تاچھ کی گئی۔ اسد اکثر اپنی خالہ عائشہ سے ملنے جایا کرتا تھا۔ موبائل کے ذریعے بھی اس سے رابطے میں رہتے تھے۔ عائشہ نے شائستہ اور اسد کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔