مردہ خانہ میں نعش رکھنے کیلئے بھی رشوت کی طلبی، ویڈیو وائرل، کنٹراکٹ ملازم برخواست
حیدرآباد۔ 31 مئی (سیاست نیوز) عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے مردہ خانے میں کنٹراکٹ ملازمین کی منمانی اور رقمی مطالبہ کا واقعہ پھر ایک بار منظر عام پر آیا۔ نعش کو مردہ خانہ میں قبول کرنے اور پھر پوسٹ مارٹم حاصل کرنے کے لئے کنٹراکٹ عملہ کی جانب سے جاری ہراسانی سے ہاسپٹل کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ کل رات ملک پیٹ کے شہریوں کیساتھ کنٹراکٹ ملازم کی ہراسانی کا ویڈیو منظر عام پر آیا جس کے بعد کارروائی کرتے ہوئے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے سپرنٹنڈنٹ نے کنٹراکٹ ملازم کو خدمات سے برخواست کردیا۔ سپرنٹنڈنٹ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ناگیندر نے اپنے بیان میں بتایا کہ راجوپال کنٹراکٹ اساس پر تھا جس کو فوری خدمات سے برخواست کردیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل میں اس طرح کی شکایتیں مردہ خانہ سے حاصل ہو رہی تھیں اور آئندہ ایسی کسی بھی شکایت کیلئے ایجنسی کو پابند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے عوام سے درخواست کی کہ وہ شکایت کریں عوامی شکایت کے لئے خصوصی باکس نصب کئے گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک پیٹ کے علاقہ میں کل رات مجید نامی شخص نے خودکشی کرلی تھی اور اس کی نعش کو مردہ خانہ منتقل کیا گیا تھا۔ جہاں راجو نے نعش کو مردہ خانہ میں محفوظ کرنے سے انکار کردیا اور ایک ہزار روپے رشوت کا مطالبہ کیا۔ رشتہ دار کی جانب سے رقم نہ دینے پر راجو نے ان کے ساتھ زیادتی کی اور نازیبا الفاظ کا استعمال کیا جبکہ راجو پولیس کی بات بھی سننے سے انکار کررہا تھا۔ متوفی مجید کے رشتہ داروں کے ہمراہ پولیس بھی موجود تھی۔ اس سارے واقعہ کی ویڈیو گرافی کی گئی اور اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد سپرنٹنڈنٹ نے اقدام کیا۔ ع