عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت محفوظ، حکومت کے دعوے کھوکھلے ثابت

   

شدید بارش کے باوجود پانی داخل نہیں ہوا، عمارت کے تحفظ کے حق میںڈاکٹرس اور قدیم طلباء کی مہم

حیدرآباد۔ شہر میں گذشتہ روز سے جاری شدید بارش نے جہاں بلدی حکام کے دعوؤں کی قلعی کھول دی تو وہیں دوسری طرف عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے تعلق سے سرکاری دعوؤں کو بھی کھوکھلا ثابت کردیا۔ اس شدید و موسلا دھار بارش کے سبب جہاں شہر کی سڑکیں جھیل تو کہیں سوئمنگ پول کا منظر پیش کررہی تھیں‘ وہیں عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کی وہ تاریخی عمارت قلی قطب شاہ بلاک بالکل محفوظ تھا۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ اس تاریخی ورثہ کے حامل فن تعمیر کے عظیم شاہکار اور شہر کا تاریخی ورثہ ہے، قلی قطب شاہ بلاک بالکل محفوظ رہا۔ اس بلاک کو جس طرح خطرہ اور مریضوں کیلئے خطرناک بتایا جارہا ہے اس میں شدید بارش کے باوجود پانی کا کوئی اثر نہیں دیکھا گیا چھت تو دور فرش بھی گیلی نہیں ہوئی۔ اس کی بہ نسبت عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے موجودہ بلاک میں جہاں مریضوں کا علاج جاری ہے۔ اس عمارت میں پانی داخل ہوگیا۔ شہر کے مختلف مقامات کی تصاویر اور عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے قلی قطب شاہ بلاک کی تصاویر جب سوشیل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو شہریوں نے تعجب کا اظہار کیا اور حکومت سے سوال کرنے پر مجبور ہوگئے کہ آیا آخر کیوں اس تاریخی ورثہ کو منہدم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ گذشتہ دنوں جب اس طرح سے بارش ہوئی تھی تب قلی قطب شاہ بلاک کی تصاویر کو منظر عام پر لایا گیا تھا جہاں پانی داخل ہوگیا تھا اور چھت میں شگاف کی باتیں کی جارہی تھیں۔ اس وقت بیگم بازار کے نالہ کی تعمیر جاری تھی جس کے سبب بیگم بازار ، سدی عنبر بازار اور افضل گنج کے علاقوں سے پانی داخل ہوگیا تھا۔ اس نالہ کے سبب ہی دیگر مقامات کی طرح قلی قطب شاہ بلاک میں پانی داخل ہوا تھا اور اب بیگم بازار کا نالہ کھل چکا ہے اور پانی نالے میں بہنے لگا ہے یعنی شہر کے ترقیاتی کام نے خود ثابت کردیا کہ قلی قطب شاہ بلاک محفوظ ہے اور اس عمارت کو کوئی دھوکہ نہیں۔ آفت سماوی سے اس عمارت کو فی الحال کوئی خطرہ لاحق نہیں تو پھرکیا وجہ ہے کہ اس عمارت کو منہدم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ عوامی رابطہ کے مختلف سماجی ذرائع سے یہ بات بڑے زوروں کے ساتھ ایک آواز بن رہی ہے کہ عثمانیہ دواخانہ کے عمارت سے کیا تکلیف ہے۔ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے قلی قطب شاہ بلاک کو منہدم کرنے کے فیصلہ پر احتجاج کرنے والی اپوزیشن کانگریس نے بھی چیف منسٹر کے سی آر پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ ایک طرف نظام حیدرآباد میر عثمان علی خاں کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تو دوسری طرف عثمان علی خاں کی تاریخ کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔ شہر و ریاست کی عوام اب قلی قطب شاہ بلاک کو منہدم کرنے کی اصل وجہ جاننا چاہتے ہیں جو سوشیل میڈیا کے ذریعہ اپنے خیالات کا اظہار کررہے ہیں۔ عثمانیہ دواخانہ کے الومنی نے دعویٰ کیا کہ اس دواخانہ میں ڈرینج کے مسائل کی وجہ پانی جمع ہوتا ہے نہ کہ سیلاب سے ۔ ذرائع نے کہا کہ پانی پرانی بلڈنگ میں آگیا تھا جس کی وجہ یہ زیر آب ہوگئی تھی لیکن یہ بات صاف نہیں معلوم کہ یہ بارش کا پانی تھا یا ڈرینج کا پانی۔ ماہ جولائی میں اس دواخانہ میں ڈرینج کا کام ہورہا تھا جس کی وجہ دواخانہ میں پانی آگیا۔ تاہم ڈرینج کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے اس دواخانہ کی پرانی عمارت کو منہدم کرنے کی بات کی گئی۔ اس واقعہ کے بعد حیدرآباد میں تین چار مرتبہ شدید بارش ہوئی۔ لیکن ایک مرتبہ بھی اس پرانی عمارت میں پانی نہیں پہنچا۔ ہاسپٹل کے عہدیداروں کے مطابق ماہ جولائی میں اس دواخانہ میں سیلاب جیسی صورتحال100سالہ قدیم ڈرینج لائن کی وجہ سے ہوئی تھی جو بیگم بازار سے ہے اور اس ہاسپٹل سے گذرتی ہے۔ جنرل ڈرینج میں رکاوٹ کی وجہ پانی عثمانیہ دواخانہ میں آرہا ہے۔ ہیرٹیج میں دلچسپی رکھنے والوں نے کہا کہ جہاں عوام کی صحت اہم ہے وہیں تہذیبی دولت کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ فوری اس بلاک کو کھول دیا جائے اور اگر ضروری ہو تو چھوٹے مرمتی کام کروائے جائیں۔