حیدرآباد۔ 10 مارچ (سیاست نیوز) عثمانیہ یونیورسٹی کے کاج آف انجینئرنگ کی طرف سے تیار کردہ دیسی مائیکرو چپ آئندہ چھ ماہ میں دستیاب ہو جائے گی۔ فریکوئنسی سنتھیسائزر نام سے اس چپ کو الیکٹرانکس ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر چندر شیکھر کی قیادت میں تحقیقی طلباء نے بنایا ہے۔ یہ پراجکٹس چپس ٹو ’’اسٹارٹ اپ‘‘ اسکیم کے تحت مرکزی حکومت کی جانب سے منظور کئے گئے۔ 5 کروڑ روپے سے شروع کیا گیا تھا۔ چندی گڑھ کے سیمی کنڈکٹر لیباریٹری (SEL) کے سائنسدانوں نے تھرمل تجزیہ ٹسٹ کا تجربہ کیا جس میں اس بات کی تصدیق ہوئی ہیکہ مائیکرو چپ میں موجود سرکٹ ٹھیک طرح سے کام کررہا ہے۔ وقت کے تجزیہ اور سوتی سگنل ٹسٹ کرنے کے بعد سائنسدان مائیکرو چپ تیار کریں گے جس کو باضابطہ طور پر منظور کیا جائے گا اور اس کی عثمانیہ یونیورسٹی کے انجینئرنگ کالج کو اطلاع دی جائے گی۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے پروفیسرس نے حیدرآباد کے ایک اور پرائیویٹ انجینئرنگ کالج کے تحقیقی طلبہ کے ساتھ مل کر دو سال قبل تحقیق شروع کی اور فریکونسی سنتھیسائزر کا ڈیزائن تیار کیا۔ ایک مائیکرو چپ گاڑیوں، آلات اور دیگر اشیاء کی اندرونی صلاحیت کو بڑھتا ہے جو ڈیجیٹل موڈ میں کام کرتی ہے۔ تقریباً مکمل ہوچکی ہے۔ فریکوئنسی سنتھیسائزر چپس ہماری گاڑیوں اور الیکٹرانکس کے ڈیزائن میں گیم چینجر ثابت ہوگی۔ مرکزی حکومت کی منظوری کے بعد جب یہ چپس مارکٹ میں دستیاب ہوں گی تو ہماری صلاحیت دنیا کے سامنے آشکار ہونے کا عثمانیہ یونیورسٹی انجینئرنگ کالج کے پرنسپل پروفیسر چندر شیکھر نے دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چپ بلوٹوتھ ٹکنالوجی کے ساتھ کام کرے گی۔ 2