عثمانیہ یونیورسٹی کے قریب واقع بستیوں میں بنیادی سہولتوں کا فقدان

   


پانی اور برقی بند، گندے نالوں سے تعفن، برقی بل ادا کرنے یونیورسٹی کا زور، مکین پریشان حال
سیداسماعیل ذبیح اللہ
حیدرآباد ۔ 26ستمبر : بلدی برقی آبرسانی کے ساتھ ساتھ ‘ بہتر تعلیمی اورطبی سہولتیں ہر شہری کا بنیادی حق ہیں۔ حکومت او رمجالس مقامی پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کے بغیر شہریوں کو ان کی بنیادی حقوق فراہم کرے۔گریٹر حیدرآباد کے بیچوں بیچ ایسی ہی نو بستیاں ہیں جہاں پر کئی سالوں سے بنیادی سہولتیںمیسر نہیں ہیں۔ تاریخی عثمانیہ یونیورسٹی کے گردو نواح میں یہ بستیاں اس وقت بسائی گئی تھیںجب یونیورسٹی کی تعمیرسے متعلق مختلف امور کی انجام دہی کے لئے مزدور پیشہ طبقے کو یہاں پرلاکر آباد کیاجاسکے۔ ہوا بھی کچھ اس طرح ہی تھااور یہاں پر ایسے مزدور پیشہ افراد کو بسایاگیا جویونیورسٹی کی تعمیر سے لے کردیگر امور کو انجام دے سکیں۔یونیورسٹی کے ساتھ ساتھ ان بستیوں کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے ۔ وہ مزدور پیشہ افرادجو یہاں ابتداء میںآکر بسے تھے ان کی نسلیں پروان چڑھیں اور تعلیم حاصل کرتے ہوئے وہ اسی عثمانیہ یونیورسٹی میںتیسرے اورچوتھے درجہ کے ملازمت بھی اختیار کی جس میںیونیورسٹی کے مختلف شعبوں کی صفائی ‘ فائیلوں کے تبادلے ‘ ہاسٹلس میںپکوان جیسے امور شامل رہے ہیں۔ مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ شہر کی ترقی کے ساتھ ساتھ ان بستیوں کی پسماندگی میںروز بہ روز اضافہ ہوتار ہا ہے۔ایسے نو بستیاں جن کے نام انگڑی بازار‘نرسری گارڈن‘ اولاڈ ڈائری فارم ‘ جامعہ عثمانیہ ‘ وی سی لاج بستی‘ کیمپ نمبر3‘ کیمپ نمبر4‘ کیمپ نمبر5‘ کیمپ نمبر6بستی ہیں جو ابتدائی دور سے ڈرنیج سسٹم سے محروم ہیں۔ حالانکہ شہر حیدرآباد جو اب گریٹر حیدرآباد میںتبدیل ہوگیاہے ‘ کسی زمانے میںیہ علاقہ حیدرآباد کا مضافات کہلایا جاتاتھا مگر شہر کی توسیع ہونے کے بعد اب یہ شہر کے بیچوں بیچ ہے ۔ان بستیوں میںنہ تو میٹھے پانی کی لائن ہے او رنہ ہی ڈرنیج لائن موجود ہے ۔گھروں کے سامنے سے کچی موریاں بہہ رہی ہیں جس کی وجہہ سے معصوم بچوں کی صحت پر اثر بھی پڑرہا ہے ۔ ایک آنگن واڑی اُردو اورانگریزی میڈیم اسکول بھی چل رہا ہے جس میںکافی تعداد میں بچہ تعلیم حاصل کررہے ہیں مگر اس کے سامنے سے کچی موری بہہ رہی ہے اوراسکول میں برقی نہیں ہے ۔ دوسرے اسکولوں کو جانے والے طلبہ گھروں کے باہر بیٹھ کر اپنے اسکول ورک کوانجام دے رہے ہیں۔رات میں یہاں کے لوگ موم بتیوں اورچراغ کے سہارے زندگی گذاررہے ہیں۔مذکورہ بستیوں کو جانے والے تمام راستے بدترین خستہ حالی کاشکار ہیں۔ان سڑکوں پر گاڑیوںسے گذرنے سے تو دور پیدل چلنا بھی دشوار ہے ۔جبکہ کیمپ نمبر3اور 6بستی میںپچھلے 25سے 30دنو ں برقی کی سربراہی روک دی گئی ہے ۔ اس کی وجہہ برقی بل بتایاجارہا ہے ۔حالانکہ یہاں پر کوئی علیحدہ برقی ٹرانسفارمرس آج تک نصب نہیںکئے گئے ہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ برقی بل کی ادائیگی کا ذمہ دار ہے اور چونکہ یہاں پر رہنے بسنے والوں کی اکثریت یونیورسٹی میں ہی ملازم ہے تو برقی بل کی ادائیگی کا بھی اصرار یونیورسٹی کی جانب سے کیاجارہا ہے ۔ ان بستیوں میںرہنے والوں کی اکثریت مزدوروں کی ہے جس میںیونیورسٹی میںکام کرنے والوں کی تنخواہیں 6سے 7ہزار روپئے ہے او رماباقی یومیہ اجرت پر کام کرتے ہوئے اپناگھر چلاتے ہیں۔ایسے میں تقریباً ایک ماہ قبل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹررویندر یادو نے ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے کیمپ بستی نمبر چار کو 8لاکھ روپئے برقی بل ادا کرنے کا استفسار کیا۔ اور بستی کی دیوار پر نوٹس بھی چسپاں کردی ۔ماضی میںکبھی بھی یونیورسٹی کی جانب سے اس طرح کا اصرار نہیںہوا ہے اور جب کبھی برقی بل یہاں کے مکینوں کودیا گیا اس کو فوری ادا بھی کردیاگیاتھا۔ مگر اچانک وی سی کی نوٹس کے بعد یومیہ اجر ت پرکام کرنے والے ان بے سہارا بور بے بس افرادکی ہوش اڑ گئے ۔آج بھی اس بستی کے لوگ واجبی برقی بل ادا کرنے کے لئے رضامند ہیں مگر وائس چانسلر آٹھ لاکھ روپئے بل ادا کرنے پر زوردے رہے ہیں۔بل کی عدم ادائیگی کی وجہہ سے ایک ماہ کے قریب عرصہ سے یہاں کے لوگ رات میںاندھیرے میںزندگی بسر کررہے ہیں۔ حالانکہ یہ ایک رہائشی بستی ہے مگر یونیورسٹی کی ریفرنس سے کمرشل بل کے طور پر برقی بل کی ادائیگی کا ان مکینوں پر زوردیاجارہا ہے ۔ اس برقی کٹوتی کے زد میںعلاقے کے مذہبی مقامات بھی آگئے ہیں۔ معصوم بچوں کے ساتھ ایسی بستی میںجس کے اطراف واکناف گھنا جنگل ہے ‘ زہریلی جانوروں کا خطرہ ہے بناء لائٹ کے زندگی بسر کرنا گویا اپنے ساتھ ساتھ ان معصوم بچوں کی زندگی کے ساتھ بھی کھلواڑ کرنے کے مترادف ہے۔اس پر سے ستم ظریفی یہ ہے کہ اس علاقے کے راستے بند کردئے جارہے ہیں۔ کئی مقامات پر راستے میںگہرے گڑھے کھود کر آمد رفت کو مسدود کردیاگیاہے ۔ اس بستی سے حبشی گوڑا جانے والے راستے پر بلدیہ شہر کا کچرا جمع کررہا ہے۔شہر کے مختلف حصوں سے آنے والی کچرے کی گاڑیاں اس سڑک پر لاکر کچرا ڈال رہی ہیں۔ چند دن قبل ایک نوجوان کی سانپ کے کاٹنے سے موت ہوئی جبکہ ایک حاملہ خاتون گڑھے اورکھڈوں سے رات کے اندھیرے میںاسپتال جارہی تھی ‘ جھٹکوں کی وجہہ سے اسپتال پہنچنے تک اس کی بھی موت واقع ہوگئی۔ ایک معمر شخص کی موت بھی اس بستی میں وبائی بیماری کی وجہہ سے ہوئی ہے۔ حالانکہ ان بستیوں کے متاثرین نے انسانی حقو ق کمیشن کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا تھا مگر ایچ آر سی کی نوٹس بھی یونیورسٹی انتظامیہ پر اثر اندازنہیںکرسکی بلکہ ان لوگوں پر شکنجہ کسنے کی کوششیں کی جارہی ہیںجو ان پسماندگی کاشکار بستیوں کو منظرعام پر لانے کاکام کررہے ہیں۔ان بستیوں کے مکینوں کا کہنا ہے کہ وہ گھریلو ٹیرف کے ساتھ دئے جانے والے برقی بل ادا کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ گھنے جنگل کی طرف جنگلی جھاڑوں سے گھری ہوئی ان بستیوں کے اسٹریٹ لائٹس تک راتوں میں گل کردئے جاتے ہیں۔ان بستیوں میںمشترکہ آبادیاں ہیںجونہایت امن وسکون ‘ پیار ومحبت کے ساتھ برسوں سے زندگی گذار رہے ہیں۔ان بستیوں کے مکینوں کے پاس آدھارکارڈ ‘ راشن کارڈ بھی موجود ہیں اور ایسے کوئی شواہد موجود ہیں جس سے وہ ثابت کرسکتے ہیں کہ سالوں سے وہ اور ان کے اجداد ان ہی بستیوں کے مکین ہیں۔ریاستی اور شہری انتظامیہ پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسی بستیوںکوبنیادی سہولتوں سے آراستہ کرتے ہوئے یہاں پر زندگی بسر کرنے والے شہریوں کے احساس کمتری کو دور کریں ۔رہائشی بستیوں میں کمرشیل بل کی ادائیگی کے اصرار کے بجائے انہیںرعایت فراہم کریںتاکہ وہ اپنااور اپنے بچوں کی بہتر مستقبل کے لئے کچھ سونچ سکیں۔