عثمانیہ یونیورسٹی کے کنٹراکٹ لکچررس کی خدمات باقاعدہ بنانے کا مطالبہ

   

چیف منسٹر کے تیقن ، عدلیہ کے مثبت ردعمل ، کابینہ منظوری کے باوجود کوئی احکامات جاری نہیں ہوئے
حیدرآباد ۔ 2 ۔ فروری : ( سیاست نیوز ) : عثمانیہ یونیورسٹی ٹیچرس اسوسی ایشن (کنٹراکٹ ) کے صدر ڈاکٹر پرشورام اور ورکنگ پریسیڈنٹ دھرما تیجا نے کنٹراکٹ پر خدمات انجام دینے والے لکچررس کی خدمات کو فوری باقاعدہ (مستقل ) بنانے کا حکومت سے مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ 240 بجٹ منظورہ جائیدادیں ہیں ۔ جن پر کنٹراکٹ لکچررس 20 تا 25 سال سے خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ اس کے علاوہ 150 سیلف فینانسگ جائیدادوں پر بھی کنٹراکٹ لکچررس خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ ان کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا برسوں سے مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ سال 2014 کے دوران ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر کے سی آر نے یونیورسٹیز میں خدمات انجام دینے والے کنٹراکٹ لکچررس کی خدمات کو مستقل کرنے کا وعدہ کیا تھا اسمبلی میں گورنر کے خطبہ میں بھی اس کا تذکرہ کیا گیا اور کابینہ میں بھی اس کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اسوسی ایشن نے اس مسئلہ پر چیف منسٹر کے سی آر وزیر تعلیم سبیتا اندرا ریڈی وزیر فینانس ٹی ہریش راؤ سے تحریری طور پر یادداشت پیش کی ہے ۔ چیف منسٹر نے اس مسئلہ پر سنجیدگی سے غور کرنے کا تیقن دیا تھا اور اس وقت کے چیف سکریٹری سومیش کمار کو خصوصی ہدایت دی تھی ۔ لیکن اس مسئلہ کا کوئی حل برآمد نہیں ہوا ہے ۔ کنٹراکٹ لکچررس کی خدمات مستقل کرنے کے معاملے میں عدلیہ نے بھی ہری جھنڈی دکھائی ہے ۔ حکومت نے سال 2016 کے دوران اس سلسلہ میں جی او 16 بھی جاری کیا تھا ۔ جی او کے جو رہنمایانہ خطوط ہے اس پر جلد از جلد عمل آوری کرنے کا ہم حکومت سے طالبہ کررہے ہیں ۔۔ ن