عرب نژاد امریکیوں میں گرین پارٹی مقبول، ڈیموکریٹس کی مخالف مہم

   

واشنگٹن : امریکہ کی گرین پارٹی کی صدارتی امیدوار جو عرب نڑاد امریکیوں میں بہت زیادہ مقبول ہیں کو بظاہراً نائب صدر کملا ہیرس کے اتحادیوں کی جانب سے ہدف بنایا جا رہا ہے۔عرب نیوز نے امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے بتایا ہے کہ گرین پارٹی کی نامزد امیدوار جِل سٹین کو ریاست وسکونسن میں بیلٹ پیپرز سے ہٹانے کے لیے ایک شکایت دائر کی گئی ہے۔بظاہر جل ا سٹین کی نااہلی کے لیے شروع کی جانے والی اس مہم میں ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے ایک رکن کی جانب سے دائر شکایت میں کہا گیا ہے کہ گرین پارٹی اہلیت نہیں رکھتی۔متعدد امریکی میڈیا اداروں میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی نے کسی بھی تیسری جماعت کے امیدوار کو صدارتی الیکشن میں حصہ لینے سے روکنے کی مہم شروع کی ہے جس کے تحت ا?زاد امیدوار رابرٹ ایف کینیڈی جونیئر کو بھی متعدد ریاستوں میں انتخاب لڑنے سے روکا جا رہا ہے۔جل سٹین کھل کر فلسطینی شہریوں کے حقوق کی بات کرتی ہیں جس کی وجہ سے وہ اس وقت عرب امریکی ووٹرز میں مقبول ہیں۔امریکہ میں رواں سال نومبر میں صدارتی الیکشن کا انعقاد ہونا ہے اور گزشتہ ماہ امتیازی سلوک کے خلاف عرب امریکی کمیٹی کی جانب سے کرائے گئے ایک پول یا سروے کے مطابق جِل سٹین کو عرب نڑاد امریکیوں میں مقبولیت حاصل ہے۔اس سروے کے مطابق فزیشن اور ماحولیاتی ماہر جِل سٹین کو 45 فیصد عرب امریکیوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ نائب صدر اور ڈیموکریٹ امیدوار کملا ہیرس کی حمایت 27.5فیصد ہے۔عرب امریکن اینٹی ڈسکریمیشن کمیٹی کا سروے بتاتا ہے کہ صرف دو فیصد عرب نڑاد امریکی سابق صدر اور ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں جبکہ لگ بھگ 18 فیصد نے تاحال فیصلہ نہیں کیا کہ وہ کس کے حامی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صدارتی الیکشن میں بظاہر گرین پارٹی سوئنگ ریاست وسکونسن میں فرق ڈال سکتی ہے جہاں گزشتہ چھ صدارتی انتخابات میں سے چار کا فیصلہ 5,700 ووٹوں اور تقریباً 23,000 ووٹوں سے ہوا تھا۔جمعرات سے شروع ہونے والے اپنے قومی کنونشن میں گرین پارٹی جِل سٹین کو باضابطہ طور پر صدارتی امیدوار نامزد کر سکتی ہے۔گرین پارٹی نے ابھی تک ڈیموکریٹک نیشنل کے اس اقدام پر ردعمل ظاہر نہیں کیا جس کے تحت ان کی نااہلی کے لیے شکایت دائر کی گئی ہے۔