جسٹس (ریٹائرڈ) مارکنڈے کاٹجو
پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ پاکستانی اسٹابلشمنٹ جو کچھ کر رہا ہے اس سے ساری دنیا واقف ہے اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عمران خان عالمی سطح کی ایک مشہور و معروف شخصیت ہے اور مختلف شعبوں سے وابستہ شہرہ آفاق شخصیتوں کی ایک بڑی تعداد ان کی تائید وحمایت پر اتر آئی ہے لیکن پاکستان کی سیول اور فوجی قیادت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہورہا ہے۔ ایسے میں عوام کی جانب سے عمران خاں کی حمایت صحیح ہے یا نہیں اس پر سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے ایک مضمون لکھا ہے جس کے اقتباسات یہاں پیش کئے جارہے ہیں۔ جب قوم ایک شخص کی قید پر غم و سوگ منارہی ہے اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ان لاکھوں لوگوں کی غربت ، ان کی حالت زار ، آسمان کو چھوتی مہنگائی اور ٹوٹے ہوئے وعدوں کو فراموش کر گئی ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔ جہاں تک میرا سوال ہے میں پاکستانی عوام کا ہمدرد ان کا خیر خواہ ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ وہ بھی اچھی اور معیاری زندگی بسر کریں لیکن پاکستانی عوام کا رویہ غیر لچکدار ہے، اس میں کوئی پختگی نہیں، اسی وجہ سے راقم الحروف نے یہ مضمون قلمبند کیا ہے ۔ آپ کو بتادوں کہ ان دنوں پاکستان میں عمران خان کی صحت کو لے کر کافی شور و غل مچا ہوا ہے ، پاکستانی اسٹابلشمنٹ عمران خان کے خلاف جس طرح کا سخت اور غیر انسانی رویہ اختیار کیا ہے ، راقم الحروف کو بھی اس پر افسوس ہے ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان پچھلے تین برسوں سے جیل میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں، ان کے خلاف بڑے پیمانہ پر من گھڑت الزامات عائد کئے گئے ہیں، باالفاظ دیگر چھوٹے الزامات عائد کئے گئے جس کا مقصد عمران خان کو جیل میں ہی بند رکھنا ہے ۔ انہیں ایک طویل عرصہ سے قید تہنائی میں رکھا گیا ہے ۔ جہاں انہیں کتابیں ، اخبارات ، ٹیلی ویژن تک رسائی حاصل نہیں ہے ۔ سا تھ ہی انہیں رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطے کی اجازت بھی نہیں ہے ۔ میرے خیال میں اس معاملہ کو مزید گہرائی میں جاکر سمجھنا ضروری ہے ۔ آپ کو بتادوں کہ ہر سیاسی سرگرمی کو پرکھنے کا صرف ایک پیمانہ ایک کسوٹی ہے ؟ ایسے میں یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ آیا اس سے عوام کا معیار زندگی بلند ہوتا ہے ؟ اس سے انہیں بہتر زندگی میسر آتی ہے ؟ واضح ہے کہ عمران خان 2018 تا 2022 پاکستان کے عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز رہے ۔ اس عرصہ کے دوران پاکستان میں بڑے پیمانہ پر غربت ، خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ بیروزگاری ، آسمان کو چھوتی مہنگائی خاص طور پر کھانے پینے کی اشیاء و دیگر اشیائے مایحتاج کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ ، بچوں میں ناقص غذا کی تکلیف دہ بلند شرح اور ملک میں خطرناک سماجی ، اقتصادی لعنت کا دور دورہ تھا ۔ اُس میں کیا ذرا بھی کمی آئی ؟ نہیں ان میں معمولی سی بھی کمی نہیں آئی۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عہدہ وزارت عظمی پر فائز رہنے کے دوران ان کا زیادہ تر وقت اپنے سیاسی محالفین کے خلاف مقدمات چلانے انہیں جیل بھیجنے پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانے والے بیانات دینے اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرض حاصل کرنے میں گزرا حالانکہ اس سے پہلے عمران خان اس امر کا اعلان کرچکے تھے کہ وہ قرض لینے کی بجائے مرنا پسند کریں گے۔ اس طرح پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ قرض کے بوجھ تلے دب گیا۔ عمران خان نے یہ بھی نعرہ پر زور انداز میں لگایا کہ پاکستان میں کرپشن یا بدعنوانیوں کا خاتمہ کیا جائے گا اور عوامی زندگی میں ایمانداری و دیانتداری کو یقینی بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جائے گی ۔ تاہم 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان نے سب کچھ فراموش کردیا ۔ اپنی سیاسی خواہشات و امنگوں کو پورا کرنے کی خاطر انہوں نے اپنے اصولوں کو بھی ترک کردیا اور کئی بدعنوان Electables کو پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹس دیئے اور پی ٹی آئی کی کامیابی یقینی بنانے کیلئے انتہائی رجعت پسند مذہبی رہنماؤں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کئے ۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں ا کثریت حاصل کرنے کیلئے فوج کی مدد بھی حاصل کی۔ عمران خان خود کو وسیع الذہن وسیع القلب اور جدید سوچ و فکر رکھنے والا فرد ظاہر کرتے تھے لیکن عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہونے کے بعد انہوں نے ترجیحی بنیاد پر جو اقدامات کئے ان میں سے ایک یہ تھا کہ عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں کو پاکستان کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے صرف اس وجہ سے ہٹادیا کہ وہ قادیانی تھے ۔ پتہ نہیں عمران خان نے یہ کیوں کیا ، ہوسکتا ہے کہ وہ ملک کے رجعت پسند حلقوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ عمران خان نے بعض مضحکہ خیز بیانات بھی جاری کئے ۔ مثال کے طورپر انہوں نے ایک مرتبہ یہ کہا کہ پاکستان میں عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ کی اہم وجہ یہ ہے کہ ملک میں خواتین کم لباس زیب تن کرتی ہیں۔ ان کے لباس کی وجہ سے عصمت ریزی کے واقعات پیش آتے ہیں۔ ان کے دور حکومت میں پاکستان کی عوام کو مہنگائی کا سامنا کرنا پڑا ، مہنگائی میں اضافہ ہوا ، یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انہیں ایک کمزور ملکی معیشت ورثہ میں ملی تھی لیکن انہوں نے معیشت کو اس سے کہیں زیادہ خراب حالت میں چھوڑا ۔ جواب میں پاکستانی عوام نے یہ سب کچھ بھلا دیا، بظاہر وہ بڑی حد تک دور اندیشی اور سیاسی بصیرت کی بجائے تنگ نظری اور جذباتی انداز میں سوچ رہے ہیں ۔ انہیں عمران خان کے ساتھ موجودہ ناروا سلوک ہی نظر آرہا ہے ۔ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اگر عمران خان کو رہا کردیا جائے اور وہ دوبارہ عہدہ وزارت عظمیٰ پر فائز ہوجائیں تب بھی ان کے سابقہ دور اقتدار کا ریکارڈ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اسی دور کی اپنی ڈرامائی وبے معنی سیاست اور کارکردگی کو دہرائیں گے۔ پاکستانیوں کو عمران خان کی فکر کرنے کی بجائے 25 کروڑ پاکستانی عوام کی مشکلات کو کیسے کم کیا جائے ، کس طرح انہیں مشکلات سے بچایا جائے ، اس کی فکر کرنی چاہئے ۔ پاکستان کی عوام کو ایک شخص کی مشکلات پر توجہ نہ دے کر قوم کی فکر کرنی چاہئے۔
نوٹ : مصنف کے خیالات سے ادارہ کا اتفاق کرنا ضروری نہیں۔