عمرخالد کی قید پر بنائی گئی ڈاکیومنٹری فلم کو حیدرآباد میں اسکرین سے روک دیا گیا

   

مختلف گوشوں سے اعتراضات، اظہارخیال کی آزادی پر کاری ضرب
حیدرآباد۔19۔ستمبر۔(سیاست نیوز) عمر خالد کی قید پر بنائی گئی ڈاکیومنٹری فلم کو حیدرآباد میں اسکریننگ سے روک دیا گیا۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹکنالوجی (حیدرآباد) کے آڈیٹوریم میں عمر خالد پر بنائی گئی فلم ’’قیدی نمبر626710حاضر ہے‘‘کی نمائش منعقد تھی جسے سنٹر ل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن کی جانب سے Xپر کئے گئے اعتراض کے بعد منسوخ کردیا گیا۔عمر خالد کی قید و بند پر مشتمل زندگی پر بنائی گئی اس فلم کی نمائش کے سلسلہ میںابتدائی طو رپر بنگلورو میں انتظامات کئے گئے تھے لیکن لمحۂ آخر میں بنگلورو میں ناگزیر وجوہات کی بناء پر فلم کی نمائش منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیا لیکن گذشتہ شب حیدرآباد میں IIIT-H میں اس ڈاکیومنٹری کی نمائش منعقدہونی تھی لیکن CBFC نے X پر کی گئی ایک پوسٹ میں یہ دعویٰ کیا کہ مذکورہ فلم کو سنسر بورڈ نے نہ دیکھا ہے اور نہ ہی اس کی نمائش کی اجازت دی ہے اسی لئے اس طرح کی ڈاکیومنٹری کی نمائش سینماٹوگرافی ایکٹ کی خلاف ورزی ہوگی۔ سنٹرل بورڈ کے اس پوسٹ کے بعد IIIT-H میں منعقد ہونے والی اس نمائش کو منسوخ کردیا گیا۔بتایاجاتاہے کہ دہلی فسادات کی سازش کے الزامات کا سامنا کررہے عمر خالدکے مقدمہ اور پولیس کی کاروائیوں اور ان کی زندگی پر بنائی گئی اس فلم کو للت واچانی نے تیار کیا ہے جو کہ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی (حیدرآباد) کے طلبہ کی جانب سے KRB آڈیٹوریم میں نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا ۔عمر خالد سے متعلق اس فلم کی حیدرآباد میں نمائش کو بالواسطہ طور پر روکے جانے پر مختلف گوشوں نے اعتراض کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اظہار خیال کی آزادی پر یہ کاری ضرب ہے ۔ کئی برسوں سے جیل میں قید و بند کی صعوبتوں کو برداشت کرنے والے عمر خالد کو درپیش مسائل اور ان کے مقدمہ کے حقائق کو اجاگر کرنے کے لئے اگر کوئی ڈاکیومنٹری تیار کرتے ہوئے اس کی نمائش کی جاتی ہے تو اس بات سے کسی بھی کو خوف نہیں ہونا چاہئے کیونکہ عمر کا مسئلہ انسانی حقوق کا مسئلہ بن چکا ہے۔H/M/3