عوام میں پہلے ڈر ‘ پھر نفرت پیدا کی گئی‘ اب تشدد برپا کیا جارہا ہے: راہول

   


تلنگانہ عوام کی لاجواب محبت تاحیات یاد رکھوں گا‘ ریاست چھوڑتے ہوئے دکھ ہورہا ہے ، عوام کا جذبہ لائق ستائش۔ جکل میں بھارت جوڑو گرجنا سے خطاب

حیدرآباد 7 نومبر ( سیاست نیوز) کانگریس قائد راہول گاندھی نے کہا کہ تلنگانہ عوام کا حوصلہ ہمالیہ سے بلند ہے ، جس سے سارے ہندوستان کو سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ بھارت جوڑو یاترا کو ریاست کے عوام نے جو پیار ، محبت ، ہمت ، طاقت اور حوصلہ دیاہے وہ ناقابل فراموش ہے جس کو وہ تاحیات یاد رکھیں گے ۔ تلنگانہ سے انہیں اور دیگر کانگریس قائدین کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے ۔ تلنگانہ چھوڑتے ہوئے انہیں کافی دکھ ہورہا ہے ۔ ریاست کے عوام کا دل کی گہرائیوں سے اظہارتشکر کرتے ہیں ۔ مدنور جکل میں تلنگانہ کی بھارت جوڑو گرجنا اختتامی جلسہ سے خطاب میں ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس موقع پر کانگریس قائدین کے سی وینوگوپال ، ڈگ وجئے نگر ، جئے رام رمیش ، سبی رام ریڈی ، مانکیم ٹیگور ، ندیم جاوید ، تلنگانہ قائدین ریونت ریڈی ، ملوبٹی وکرامارک ، مدھو گوڑ یشکی ، جیون ریڈی ، اُتم کمار ریڈی ، ہنمنت راؤ ، پنالہ لکشمیا ، محمد علی شبیر ، سید عظمت اللہ حسینی و دیگر موجود تھے ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ نفرت ، اشتعال انگیزی ، بیروزگاری ، مہنگائی کے علاوہ دوسرے مسائل کے خلاف وہ بھارت جوڑو یاترا شروع کرچکے ہیں اور آج ہم تلنگانہ کو چھوڑ کر مہاراشٹرا جارہے ہیں ۔ خوشی ہے کہ تلنگانہ عوام نے شاندار طریقہ سے ان کا استقبال کیاہے ۔ وہ تلنگانہ میں بھارت جوڑو یاترا کے دوران کئی لوگوں سے ملے کئی لوگوں کو گلے لگایا ہے ، کئی سے بات چیت کی ہے ۔ تلنگانہ کی بہت اچھی یادیں ہیں انہیں تلنگانہ چھوڑ کر جاتے ہوئے بہت دکھ ہورہا ہے ۔ تلنگانہ کانگریس کارکنوں نے زبردست کام کیا ہے ۔ میں نے تلنگانہ میں اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا اس کو پرنٹ اور الکٹرانک میڈیا نے کبھی نہیں دکھایا ہے ۔ ہمارے کارکن کانگریس کا پرچم اور قومی پرچم اٹھاکر چل رہے ہیں ۔ اس بھارت جوڑو یاترا میں ذات پات ، مذہب ، زبان ، علاقہ کی کوئی بات نہیں کی گئی ، سب کو ہندوستانی شہری کی نظر سے دیکھا گیا ۔ راہول گاندھی نے کہا کہ وہ پہلے بھی تلنگانہ کا دورہ کرچکے ہیں ،تب گاڑیوں میں آتے تھے ، جلسوں سے خطاب کرتے اور چلے جاتے ۔ اس مرتبہ وہ اور کانگریس قائدین سڑکوں پر چلتے کسانوں ،مزدوروں ، دلتوں ، قبائلیوں اور دوسرے تمام مذاہب کے لوگوں سے ملے ہیں ، گھنٹوں کی ان کی بات سنی ہے ۔ تلنگانہ عوام کا جو جذبہ ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ تلنگانہ میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے ، انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے ۔ عوام کے چہروں سے سب کچھ عیاں تھا ۔ انہوں نے ایک بچہ کا حوالہ دیا جس نے ان سے ملنے جو کوشش کی اس کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ پولیس اس کو آنے نہیں دے رہی تھی ، دھکے دے رہی تھی تو یہ بچہ ہار نہیں مانا ، کبھی اس طرف کبھی اُس طرف سے مجھ سے ملاقات کیلئے دوڑ دھوپ کررہا تھا ۔ وہ بچہ کی کوشش اور صبر کا ٹسٹ لے رہے تھے ۔ بالآخر وہ بچہ میرے قریب پہنچ گیا پھر میرے ساتھ کچھ دیر چلا مجھ سے کچھ نہیںمانگا بس چلتا رہا ۔ میں نے سوچا یہ اپنے والد کے ساتھ آیا ہوگا ، میں نے جب والد کے بارے میں پوچھا تو بچہ نے بتایا کہ وہ بھی آنا چاہتے تھے مگر نہیں آئے ۔ میں تنہا آگیا میرے والد کی صحت ٹھیک نہیں ہے ۔ میں نے ویڈیو کالنگ پر بچہ کے والد سے بات کی جو ڈینگو سے متاثر تھا پھر میں نے اپنے لوگوں کو انہیںہاسپٹل پہنچانے کا مشورہ دیا ۔ راہول گاندھی نے کہاکہ یہ بچہ کی شکل میں تلنگانہ عوام کی آواز ہے جوسب کو سننا ہی پڑتا ہے ، اس کو ہرگز دبایا نہیں جاسکتا ۔ میں نے تو آپ کے سامنے ایک بچے کی مثال پیش کی ۔ کسانوں ، دلتوں ، قبائلیوں اور عام لوگوں کے بارے میں بھی بہت کچھ بتاسکتا ہوں ۔ تلنگانہ عوام گرکر دوبارہ کھڑے ہونا جانتے ہیں ۔ تلنگانہ عوام کا جو جوش و جذبہ ہے اس سے سارے ملک کو سیکھنے کی ضرورت ہے ۔ میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس بچہ کا باپ ہاسپٹل کیوں نہیں جاسکا کیونکہ ریاست میں خانگی ہاسپٹلس کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے ، تعلیمی نظام کو تباہ و برباد کردیا گیا ہے ۔ انجنیئر و ڈاکٹر بننے طلبہ کو لاکھوں روپئے قرض حاصل کرنا پڑتا ہے ۔اعلیٰ تعلیم کا غریب طلبہ جو خواب دیکھ رہے ہیں ٹی آر ایس حکومت اس کو چکنا چور کررہی ہے ۔ اندرا گاندھی اور کانگریس نے غریب عوام ،دلتوں اور قبائلیوں کو لاکھوں ایکڑ اراضی دی تھی اس کے بعد یو پی اے حکومت نے ٹرائبل بل منظور کیا تھا جس پر تلنگانہ میں عمل نہیں ہورہا ہے بلکہ غریب عوام سے اراضیات چھین لی جارہی ہے ۔ ریاست میں کانگریس کی حکومت بنتے ہی آپ کی اراضیات آپ کو دوبارہ لوٹا دی جائیگی ۔ کاشت پر کسانوں کو اقل ترین قیمت ادا کی جائیگی ۔ یو پی اے حکومت نے 72 ہزار کروڑ روپئے کسانوں کا قرض معاف کیا تھا ۔ جیسے ہی ریاست میں کانگریس حکومت قائم ہوگی دوبارہ کسانوں کا قرض معاف کردیا جائیگا ۔ چیف منسٹر کے سی آر کمیشن کی خاطر پراجکٹس کے ڈیزائن تبدیل کررہے ہیں ۔دھرانی پورٹل کے ذریعہ اراضیات چھینی جارہی ہے ۔ مودی اور کے سی آر دونوں مل کر کام کررہے ہیں ۔ ٹی آر ایس نے پارلیمنٹ میں بی جے پی کے ہر بل کی تائید کی ہے ۔بیروزگاری اور مہنگائی عروج پر پہنچ گئی ہے ۔ لوگوں میں پہلے ڈر پھر نفرت اس کے بعد تشدد برپا کیا جارہا ہے جس کے خلاف بھارت جوڑو یاترا شروع کی گئی ہے ۔ ن