عوام کی ضروریات کے عین مطابق شہری علاقوں میں سہولتوں کی فراہمی کی ہدایت

   


چیف منسٹر کے سی آر کا اعلیٰ سطحی اجلاس، نظام آباد شہر اور ریلوے اسٹیشن کو خوبصورت بنانے منصوبہ بندی کا فیصلہ

حیدرآباد۔/27 نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ ریاست بھر میں بلدی نظم و نسق کے تحت بنیادی انفرااسٹرکچر کی فراہمی پر خصوصی توجہ دیں۔ چیف منسٹر نے آج پرگتی بھون میں اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں ریاست میں بلدی نظم و نسق کے تحت ترقیاتی کاموں اور نظام آباد شہر کی ترقی کا جائزہ لیا گیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست بھر میں ترقیاتی کاموں کو مزید بہتر بنایا جائے۔ عوام کی ضروریات میں اضافہ ہوچکا ہے اور محکمہ جات کو اسی کے مطابق معیاری خدمات فراہم کرنے پر توجہ دینی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں عوامی سہولتوں کو نظرانداز کردیا گیا تھا جبکہ تلنگانہ کے قیام کے بعد زراعت، آبپاشی، پینے کے پانی ، برقی، سڑک، تعلیم اور ادویات کے شعبہ جات میں معیاری سہولتیں فراہم کی گئیں جس کے نتیجہ میں عوام کی قوت خرید میں اضافہ ہوا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ریاست میں سماج کے تمام طبقات معاشی طور پر مستحکم ہوئے ہیں اور یہ تمام کامیابیاں بہتر ترقی کا نتیجہ ہے۔ عوام حکومت سے مزید معیاری خدمات کے متمنی ہیں۔ عہدیداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اُتریں۔ انہوں نے کہا کہ بلدی سہولتوں کی بہتری کے سلسلہ میں عوام کی ضرورت میں اضافہ ہوا ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملازمین کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے اعتماد کو بحال رکھیں۔ سابق میں سرکاری دواخانوں اور دیگر سرکاری اداروں کو عوام کی تائید حاصل نہیں تھی لیکن آج سرکاری ادارے کافی مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ روزگار کیلئے پڑوسی ریاستوں سے تقریباً 30 لاکھ افراد تلنگانہ منتقل ہوئے ہیں۔ انتظامی اصلاحات پر عمل کرتے ہوئے نظم و نسق کو عوام کی دہلیز تک پہنچایا گیا۔ سرکاری مشنری کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی توقعات کے مطابق اپنی ذمہ داریوں کو نبھانے کی کوشش کریں۔ سابق میں بارش صرف دو یا تین ماہ تک جاری رہتی تھی لیکن آج صورتحال تبدیل ہوچکی ہے۔ مسلسل بارش کے نتیجہ میں تعمیری سرگرمیاں کم ہوچکی ہیں۔ ہمیں چاہیئے کہ چھ ماہ کے وقفہ میں ترقیاتی کاموں کو مکمل کرلیں کیونکہ یہ وقفہ بارش کا نہیں ہوتا۔ صورتحال کے اعتبار سے نظم و نسق کو منصوبے تیار کرنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے نظام آباد شہر کی ترقی کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ شہر کی ترقی پر مزید توجہ دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی کام منصوبہ بند انداز میں آئندہ دو ڈھائی ماہ میں مکمل کرلئے جائیں۔ چیف منسٹر ترقیاتی کاموں کا شخصی طور پر جائزہ لیں گے۔ انہوں نے مقامی رکن اسمبلی بی گنیش کو ہدایت دی کہ پنچایت راج، آر اینڈ بی، بلدی نظم و نسق اور دیگر عہدیداروں کے اشتراک سے ترقیاتی کاموں پر توجہ دیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نظام آباد کی ترقی کیلئے فنڈز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ چیف منسٹر نے فینانس سکریٹری کو نظام آباد کی ترقی کیلئے ضروری فنڈز جاری کرنے کی ہدایت دی۔ کے سی آر نے کہا کہ کھمم سٹی جو کبھی انتہائی پسماندہ تھی آج خوبصورت شہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ نظام آباد کو کھمم کی طرح خوبصورت بنایا جائے۔ انہوں نے عہدیداروں اور ارکان اسمبلی کو کھمم کا دورہ کرتے ہوئے جائزہ لینے کا مشورہ دیا۔ چیف منسٹر نے کہا کہ نظام آباد میں قبرستانوں، شمشان، مارکٹس، کمیونٹی ہالس، ڈمپنگ یارڈ، ویج اینڈ نان ویج مارکٹس کی ضرورتوں کے بارے میں منصوبہ تیار کریں۔ چیف منسٹر نے نظام آباد میں پارکس اور گارڈنس کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ انہوں نے نظام آباد ریلوے اسٹیشن کو خوبصورت بنانے کی ہدایت دی۔ اجلاس میں وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ ریاست بھر میں بلدی نظم و نسق کے تحت ترقیاتی کاموں کا سلسلہ جاری ہے۔ وزیر عمارات و شوارع پرشانت ریڈی نے سڑکوں کی تعمیر اور نظام آباد میں آڈیٹوریم کے قیام سے واقف کرایا۔ رکن کونسل کویتا نے چیف منسٹر سے درخواست کی کہ نظام آباد کی جامع ترقی کیلئے اقدامات کریں۔ اجلاس میں ارکان مقننہ وینکٹ رام ریڈی، کوشک ریڈی، بی گنیش، جیون ریڈی، روہت ریڈی، اسپیشل چیف سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار، کلکٹر نظام آباد ست نارائنا، ایڈیشنل کلکٹر نارائن ریڈی، میونسپل کمشنر چندر شیکھر اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ر