جامعۃ المؤمنات کی دو یومی کل ہند خواتین کانفرنس کا آغاز، مفتی خلیل احمد اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد 11/ جنوری (راست) علامہ مفتی خلیل احمد امیرالجامعہ جامعہ نظامیہ نے جا معۃ المؤمنات کی دوروزہ کل ہند خواتین کانفرنس عید گاہ میرعالم نزد زو پارک حیدرآباد میں بعد افتتاح خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی زندگی اصل نہیں بلکہ آخرت کی زندگی اصل زندگی ہے۔دین کی کی تبلیغ واشاعت میں جہاں مردوں نے حصہ لیا وہیں عورتوں نے بھی حصہ لیا ،صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ صحابیات رسولؐ نے بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ،قرآن مجید میں مردوں کے ساتھ عورتوں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے، عورت فقیہہ ،محدثہ،مفسرہ بھی ہے، عورت معاشرہ کا اہم جز اور تخلیق کا باعث ہے، دین کو سمجھنے کیلئے صحابیات کی سیرت کو اپنانا چاہئے۔ساری دنیا کے مر وعورت جو تسبیح پڑھتے ہیں اسے تسبیح فاطمہ کا نام دیا گیا،اولا کی تربیت بھی عورتیں ہی کرتیں ہیں، حضرت عائشہؓ سے صحابہ کرام بھی دین سیکھتے تھے ۔ڈاکٹرمولانا حافظ محمد مظفر حسین خاں بندہ نوازیؒ نے کہا کہ اسلام سے قبل لڑکی کی پیدائش پروالد یہ سونچتا کے اسکو دفن کیا جائے یا اس کو ذلیل وخوار کر کے اس کو جینے کاحق نہ دیا جائے، اسلام نے عورت کے مقام کو اتنا بلند کیا ہے کہ اللہ کے رسولﷺ نے فرما جو شخص تین لڑکیوں کی پرورش کرتا ہے ان کو اچھا علم سکھائے،ادب سکھائے،اوراسکا وقت مقررہ پر نکاح کرے تو اس شخص کیلئے جنت ہے،اگر وہ عورت ماں ہے تو اس کے قدموںہے کے نیچے جنت ہے، عورت نصف انسانیت ہے معاشرہ کی سدھار وبگاڑ میں عورت کے کردارکو بہت ز یادہ اہمیت دی گئی ہے۔ مولانا حسان فاروقی (امیر سنی دعوت اسلامی)نے کہا کہ اسلام سے قبل بیوہ عورت کو دیکھنا بھی منحوس سمجھا جاتا ہے ایسے وقت میں حضورﷺ نے بیوہ عورت سے نکاح فرما کر اس بات کا ثبوت دیا کہ بیوہ منحوس نہیں ہے،سرکار مدینہﷺ نے فرمایا بیوہ اور یتیم کی کفالت کرنے والا بروز محشر مجھ سے قریب ہوگا۔ اس کانفرنس کی سرپرستی مولانا سید شاہ درویش محی الدین قادری مرتضی پاشاہ نے کئے۔بحیثیت مہمانان خصوصی ڈاکٹر مفتی حافظ محمد صابر پاشاہ قادری،ڈاکٹر مفتی یس یم سراج الدین، مولانا عرفان اللہ شاہ نوری، ڈاکٹر مفتی عبد الواسع احمد صوفی شرکت کئے۔ ڈاکٹر مفتی حافظ مستان علی قادری بانی وناظم اعلی جامعۃ المؤمنات نے مہمانوں کا خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹرمفتیہ حافظہ رضوانہ زرین پرنسپل وشیخ الحدیث جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ اسلام نے رشتوں کو جوڑنے کی تعلیم دی ہے۔ ترک تعلق اور دوریاں اسلام میں ناپسندیدہ ہے ،نکاح کا رشتہ ایسا پاکیزہ رشتہ ہے جس کے ذریعہ دو افراد میں اور دوخاندانوں میں ایک تعلق پیدا ہوتا ہے گھر آباد ہوتے ہیں محبتیں پیدا ہوتی ہیںیہ رشتہ ا س وقت مضبوط وتقویت پاتا ہے جب دونوں اپنے حقوق کو ادا کریں اگر اس میں کوتاہی ہوجائے تو رشتوں میں نااتفاقیاں پیدا ہوتی ہیں جو طلاق دینے کا سبب بنتی ہیں۔ ڈاکٹرمفتیہ تہمینہ تحسین مؤمناتی شیخ الادب جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ صبر زندگی کا حسن ہے۔ جس طرح سمندر کے دو کنارے ہوتے ہیںاسی طرح زندگی کے دو کنارے ہیںصبر اورشکر جو شخص ان دونوں چیزوں پر گامزن رہا وہ بہادر اور کامیاب ہے۔ ڈاکٹر مفتیہ ناظمہ عزیز مؤمناتی شیخ الفقہ جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ حضورﷺ فرمایا جو جس قوم کی مشابہت کرتاہے قیامت کے دن انہیںکے ساتھ اٹھایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مفتیہ سیدہ عشرت بیگم مؤمناتی شیخ المعقولات جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں کئی مقامات پر اللہ کی راہ میںاپنا مال خرچ کرنے کا حکم دیا ہے ، خواتین اسلام نے اس میں پہل کی اور جس صحابیہ کے پاس جو کچھ قیمتی اشیاء موجو د تھے صحابیات نے اپنے باغات اپنے مہر تک بیت المال میںجمع کروائے۔ ڈاکٹرمفتیہ سیدہ عاتکہ طیبہ مؤمناتی شیخ التفسیر جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ اسلام میں زیب وزینت کو مکمل طور پر ممنوع نہیں کیا گیا ہے بلکہ اس کو ایک فطری خوہش اور حق مانا گیا ہے اسلامی حدود میں رہتے ہوئے زیب و زینت کی خواتین کو اجازت دی گئی ہے۔ ڈاکٹرمفتیہ نسرین افتخار مؤمناتی شیخ التفسیر جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ زندگی نعت ہے جس کا بدل نہیں جو اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہے اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے اگر کوئی شخص کا اپنے آپ کو قصدا اور غیر قدری طریقہ سے ہلاک کردے تو اس عمل کو خودکشی کہاتا ہے۔ ڈاکٹر مفتیہ حافطہ عائشہ سمیہ مؤمناتی نائب شیخ الحدیث جامعۃ المؤمنات نے کہا کہ اسلام نے دنیا سے بے حیائی کو دور کرنے اور معاشرے میں ہونے والی برائیوں کو روکنے کیلئے پردے کا حکم دیا ہے ۔حجاب عورت کا وقار ہے۔